Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
98 - 975
حدیث نمبر 98
روایت ہے حضرت ابو سعید سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ مؤمن اور ایمان کی مثال گھوڑے کی سی ہے اپنی رسی میں جو گھومتا ہے پھر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے ۱؎  اور مؤمن بھول جاتا ہے پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے ۲؎  تو تم اپنا کھانا پرہیزگاروں کو کھلاؤ اور نیکو کار مؤمنوں کو ۳؎(بیہقی شعب الایمان)ابو نعیم فی الحلیۃ
شرح
۱؎ آخیہ اس لمبی رسی کو کہتے ہیں جس کا ایک کنارہ میخ میں بندھا ہوا دوسرا گھوڑا کے پاؤں میں ہو درمیان رسی کو ز مین میں دبادیا ہو،اگر گھوڑا کھل جاوے تو گھوم پھرکر پھر اپنے تھان پر آجاتا ہے اس رسی کو اردو میں تھان کہتے ہیں۔

۲؎ یعنی مؤمن بھی بھول چوک میں گناہ کے آس پاس گھوم آتا ہے پھر رحمت خداوندی دستگیری کرتی ہے اور اپنے ٹھکانے پر آجاتا ہے توبہ کرلیتا ہے۔شعر

تال  سوکھ  پربھٹ   ہوا   اور   ہنسا   کہیں نہ  جائیں 	باندھیں پچھلی پربت کے اور کنکر چن چن کھائیں

خیال رہے کہ جیسا بھاگا ہوا گھوڑا جب واپس آتا ہے تو مالک اسے نکالتا نہیں فورًا باندھ  لیتا ہے یوں ہی ہم جیسے بھگوڑے گنہگار بندے جب بارگاہ الٰہی میں توبہ کرتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں تو وہ رب کریم ہم کو فورًا قبول فرمالیتا ہے نکالتا نہیں مگر شرط یہ ہی ہے کہ تعلق اس سے قائم رکھیں۔

۳؎  یعنی کوشش کرو کہ تمہارا کھانا اللہ کے نیک بندے کھائیں تاکہ تم کو نیکی کی طرف رجوع کرنے کی جلد توفیق ملتی رہے۔
Flag Counter