۱؎ اکبر سے مراد ذاتی بڑائی ہے اور عظمت سے مراد صفاتی بڑائی۔چادر اور تہبند فرمانا ہم کو سمجھانے کے لیے ہے کہ جیسے ایک چادر ایک تہبند دو آدمی نہیں پہن سکتے یوں ہی عظمت وکبریائی سوائے میرے دوسرے کے لیے نہیں ہوسکتی۔
۲؎ اس طرح کہ اپنی ذات یا اپنی صفات کو بڑا سمجھے گا میرا مقابلہ کرے گا گویا میرا شریک بننا چاہے گا۔خدا کی پناہ!
۳؎ دنیا میں فراق و ہجران کی آگ میں،آخرت میں دوزخ کی آگ میں متکبرین کی یہی سزا ہے۔
۴؎ اسے دوزخ میں ایسے پھینک دوں گا جیسے مرا کتا روڑی کوڑے پر ذلت و حقارت کے ساتھ پھینکا جاتا ہے۔خیال رہے کہ کبریائی عظمت سے اعلیٰ وافضل ہے اس لیے کبریائی کی چادر اور عظمت کو تہبند فرمایا،چادر تہبند سے افضل ہوتی ہے۔تکبر یہ ہے کہ آدمی اپنے کو بڑا سمجھے،عظمت یہ ہے کہ لوگ اسے بڑا سمجھیں لہذا عظمت میں غیروں کے خیال کو دخل ہوا لہذا تکبر و کبریائی اعلیٰ ہے عظمت سے کہ کبریائی ذاتی ہے عظمت اضافی۔(مرقات)خیال رہے کہ اللہ تعالٰی کے مقبول بندوں کی عزت و عظمت رب تعالٰی کا عطیہ ہے،یہ رب تعالٰی کی نعمت عاجلہ ہے۔