| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت سہل ابن معاذ سے ۱؎ وہ اپنے باپ سے راوی بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص غصے کو پی جائے ۲؎ حالانکہ اس کے جاری کرنے پر قادر ہو۳؎ اللہ تعالٰی اس کو قیامت کے دن مخلوق کے سرداروں میں بلائے گا ۴؎ یہاں تک کہ اس کو اختیار دے گا کہ جو حور چاہے لے لے ۵؎ (ترمذی،ابوداؤد)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ آپ سہل ابن معاذ ابن انس ہیں،جہنی ہیں،اہل مصر سے ہیں،یہ معاذ ابن جبل نہیں بلکہ معاذ ابن انس ہیں۔ ۲؎ یعنی کسی نے دوسرے کو برا بھلا کہا اور دوسرا شخص اپنی ذاتی برائی سن کر خاموش رہے درگزر کرے تو اس کو وہ ثواب ہے جو آگے مذکور ہے۔اس میں صرف وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے ذاتی معاملات میں درگزر کریں لیکن اللہ ورسول،شیخ و استاد وغیرہ کے گستاخ سے بدلہ لینا اور غصہ کا اظہارکرنا عین عبادت ہے وہاں غصہ نہ کرنا بے غیرتی ہے۔ ۳؎ یعنی بدلہ لینے کی ہر طرح طاقت ہے پھر صرف رب کی رضا کے لیے معاف کرتا ہے خواہ یہ شخص حاکم ہو یا طاقتور اور اس شخص پر غالب ہو یا امیر ہو خود بدلہ لے سکتا ہو یا دوسرے کے ذریعے سے لے سکتا ہو مگر اتنی قدرت کے باوجود پھرتحمل کرے یہ بہت مشکل کام ہے۔ ۴؎ کہ اس پر عمل کرنے سے انسان ولی اللہ بن جاتا ہے،اس نے دنیا میں اپنے کو عاجز کیا رب تعالٰی اس کو قیامت کے دن سرداری عطا فرمائے گا کیسا عظیم کرم ہے۔ ۵؎ حور کی نسبت اس لیے ہے کہ یہ اس کے دل کو خوش کرنے کے لیے ہے جو اس نے صرف اپنے رب کے لیے رنجیدہ کیا اور دل تنگ کیا ذلت برداشت کی کیونکہ مرد کا دل بال بچے میں زیادہ خوش رہتا ہے اکیلا آدمی کتنا ہی دولت مند ہو اداس رہتا ہے حقیقی خوشی اپنے ہی گھر نصیب ہوتی ہے۔اس حقیقی خوشی کے لیے اپنا گھر بسانے کے لیے حور کا ذکر کیا جائے گا کہ باہر کے غم ہمیشہ گھر میں اچھی بیوی کے ذریعہ ختم ہوتے ہیں تو گویا مؤمن کو رب تسلیاں فرماتا ہے اور مؤمن کا گھر جنت ہے اور دنیا باہر کی جگہ۔