Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
913 - 975
حدیث نمبر 913
روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا وہ مسلمان جو لوگوں میں ملا جلا رہے اور ان کی تکلیف پر صبرکرے اس سے افضل ہے جو نہ ان سے ملا جلا رہے اور نہ ان کی ایذاء پر صبرکرے ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی مسلمان دو قسم کے ہیں: ایک وہ جنہیں خلوت بہتر ہے،بعض وہ جن کے لیے جلوت افضل ان دونوں میں جلوت والے افضل ہیں کیونکہ خلوت والے صرف اپنی اصلاح کرتے ہیں اور جلوت والے دوسروں کوبھی درست کرتے ہیں۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ تم دنیا میں اپنے دوست زیادہ بناؤ کہ کل قیامت میں مؤمن دوست شفاعت کریں گے اور آپ نے اپنی تائید میں یہ آیت پڑھی"فَمَا لَنَا مِنۡ شٰفِعِیۡنَ وَلَا صَدِیۡقٍ حَمِیۡمٍ"کہ کفار اپنے لیے شفیع اور دوست نہ ملنے پر افسوس کریں گے مگر خیال رہے کہ بعض لوگوں کے لیے،نیز بعض حالات میں،نیز بعض مقامات پر خلوت افضل ہوتی ہے اگر جلوت میں خود اپنے آپ گناہوں میں مشغول ہوجانے کا اندیشہ ہو تو خلوت بہتر،حضرت وہب فرماتے ہیں کہ حکمت دس حصے ہیں نو خاموشی میں ایک خلوت میں۔(مرقات)بہتر یہ ہے کہ کبھی خلوت اختیارکرے کبھی جلوت خیر الامور اوسطہا،عربی میں تنہائی کو عزلۃ کہتے ہیں۔عارفین فرماتے ہیں کہ عزلۃ میں اگر علم کا عین نہ ہو تو ذلت ہے اور اگر زہد کی ز نہ ہو تو نرمی علت ہے یعنی خلوت وہ اختیار کرے جس کے پاس علم بھی ہو زہد بھی۔
Flag Counter