۱؎ یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ مکحول تابعی ہیں صحابی نہیں لہذا صحابی کا ذکر نہیں ہوا مگر چونکہ مکحول بڑے عالم ثقہ ہیں اس لیے ان کا ارسال قبول ہے،جب امام بخاری کی تعلیق معتبر ہے تو حضرت مکحول کا ارسال کیوں نہ معتبر ہو۔
۲؎ یعنی مؤمن زبان کا بھی نرم ہوتا ہے دل کا بھی نرم اور وہ اللہ رسول کے ہاتھ میں ایسا ہوتا ہے جیسے نکیل والا اونٹ اپنے مالک کے قبضہ میں۔انف الف کے فتحہ نون کے کسرہ سے یہ بنا ہے انف بمعنی ناک سے،انف وہ اونٹ جس کی ناک میں نکیل اور نکیل مالک کے ہاتھ میں ہو۔
۳؎ یعنی مؤمن اللہ رسول کے احکام پر بلا جرح قدح سرجھکا دیتا ہے خواہ احکام نرم ہوں یا سخت وجہ نہیں پوچھتا کہ یہ حکم کیوں ہے۔