Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
910 - 975
حدیث نمبر 910
روایت ہے حضرت عبداللہ  ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو آگ پر اور آگ اس پر حرام ہوتی ہے ۱؎  ہر نرم طبیعت نرم زبان لوگوں سے قریب درگزر کرنے والا ۲؎(احمد،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
شرح
۱؎ دونوں لازم و ملزوم ہیں کہ دوزخ کی آگ پر وہ حرام ہوجاوے اور دوزخ کی آگ اس پر حرام ہوجاوے کہ نہ آگ اس تک پہنچے نہ آگ تک وہ پہنچے اور اگر وہ کسی وقت دوزخیوں کو نکالنے کے لیے دوزخ میں جاوے تو اس کو آگ کی گرمی نہ پہنچے۔

۲؎ ھین اور لین ی کی شد سے بھی آتا ہے اور ی کے سکون سے بھی دونوں کے معنی ہیں نرم مگر جب یہ دونوں جمع ہوجاویں تو ایک سے مراد نرم طبیعت ہوتا ہے دوسرے سے مراد نرم زبان۔سہل کے معنی ہیں سمح یعنی لوگوں کی زیادتیوں سے درگزر کر جانے والا،قریب کے معنی ہیں لوگوں سے نزدیک رہنے والا کہ جب اس کی ضرورت پڑے تو حاضر ہوجاوے اگر لوگ اس سے مستغنی ہوں تو یہ بھی بے نیاز رہے۔
Flag Counter