۱؎ نووی نے اپنی کتاب اربعین میں فرمایا کہ حضرت ابوذرغفاری اور معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہما چہارم مسلمین ہیں۔(مرقات)حضرت ابوذر غفاری سے خصوصیت سے یہ ارشاد فرمایا گیا اگرچہ اور لوگ بھی سنتے تھے۔
۲؎ اس طرح کہ سارے واجبات ادا کرو اور سارے حراموں سے بچو۔تقویٰ دین کی جڑ اور یقین کی بنیاد ہے۔تقویٰ کے بہت درجے ہیں جو ہم نے اپنی تفسیرنعیمی میں ھدی للمتقین کی تفسیر میں عرض کیے۔پہلا درجہ بدعقیدگی سے بچنا ہے،دوسرا درجہ بدعملی سے بچنا ہے،تیسرا درجہ مکروہ بلکہ مشتبہ چیزوں سے بچنا،چوتھا درجہ بیکار چیزوں سے بچنا،پانچواں درجہ جو بارے حجاب ہو اس سے بچنا۔غرضکہ ہر طرح کی آڑ پھاڑ کر یار تک پہنچنا ہے اللہ اس قال کو حال بنادے۔جہاں کہیں ہونے سے مراد ہے علانیہ خفیہ ہر طرح ہر جگہ خدا سے ڈرنا۔
۳؎ یعنی گناہوں کے بعد توبہ کرلو اور بداعمالی کے بعد نیک اعمال کرلو جن سے یہ برائیاں مٹ جاویں۔گانا سن لیا ہے تو قرآن مجید سن لو،بری جگہ بیٹھے ہو تو وعظ و نصیحت کی مجلس میں بیٹھو،اگر حرام جگہ خرچ کردیا ہے تو صدقہ و خیرات کرو غرضکہ ہر مرض کا علاج اس کی ضد سے کرو،حب دنیا کو حب آخرت سے دھولو،سیاہی دل کو آنکھوں کے آنسو سے دور کرلو غرض کہ سیاہی کو سفیدی سے دور کرو ،دنیا وی خوشی کے بعد آخرت کا غم کرلو،اللہ تعالٰی ان نیکیوں کے ذریعہ ان برائیوں کو مٹا دے گا،رب فرماتاہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔
۴؎ اس طرح کہ لوگوں کی تکالیف برداشت کرو،ان پر اپنا مال خرچ کرو،ان سے خندہ پیشانی سے ملو،ان کی مصیبتوں میں کام آؤ۔