۱؎ یا تو بعینہ اچھی عادت نیکیوں کے پلے میں رکھی جاوے گی کیونکہ قیامت میں ہر چیز کی شکل بھی ہوگی اس میں وزن وغیرہ بھی ہوگا،اچھی عادت کا ثواب،چونکہ اچھی عادت رب تعالٰی کو بہت پسند ہے اس لیے اس میں وزن زیادہ ہے،وہاں وزن رضاء الٰہی سے ہوگا اخلاص کی عبادات وزنی ہوں گی ریا کی عبادات ہلکی کہ ریا کی عبادت سے رب ناراض ہے،اخلاص کی عبادت سے رب راضی،کافر کی عبادات میں کوئی وزن نہ ہوگا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَلَا نُقِیۡمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا"گناہوں میں وزن رب تعالٰی کی ناراضی سے ہوگا جس قدر رب تعالٰی کی ناراضی زیادہ اس قدر گناہ میں وزن زیادہ اللہ محفوظ رکھے۔
۲؎ چونکہ رب تعالٰی بدخلقی بدزبانی سے ناراض ہے لہذا وہ گناہوں کے پلے میں ہوں گے اور اس گناہ میں بہت بوجھ ہوگا۔خیال رہے کہ حضور کے نیک اعمال میں اتنا وزن ہے کہ اسے کوئی ترازو تول سکتی ہی نہیں اسی لیے حضور کی نیکیاں تولی نہ جائیں گی جیسے ہماری ترازو سمندر کا پانی ہوا نہیں تول سکتی ایسے ہی قیامت کی ترازو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نیکیاں نہ تول سکے گی،جب ان کے نام میں اتنا وزن ہے کہ ہم جیسے گنہگاروں کے کروڑوں من کے گناہ ایک کلمہ محمدی سے ہلکے ہوجاویں گے کہ ہمارے کام ہلکے ہیں حضور کا نام بھاری ہے تو ان کے اعمال کیسے ہوں گے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔شعر
دل عبث خوف سے پندسا اڑا جاتا ہے پلہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسہ تیرا