| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت حارثہ ابن وہب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جنت میں نہ تو جواظ داخل ہوگا اور نہ جعظری فرمایا اور جواظ سخت دل سخت زبان ہے۲؎ ابوداؤد نے اپنی سنن میں اور بیہقی شعب الایمان میں اور جامع اصول والے نے اس میں حضرت حارثہ سے ایسے ہی شرح سنہ میں ہے انہیں حارثہ سے اور اس کے لفظ یہ ہیں کہ جنت میں جواظ جعظری داخل نہ ہوگا کہا جاتا ہے کہ جعظری سخت دل سخت زبان ہے۳؎ اور مصابیح کے نسخوں میں حضرت عکرمہ ابن وہب سے ہے،اس کے لفظ ہیں کہ فرمایا جواظ وہ ہے جو جمع کرے اور منع کرے۴؎ اور جعظری سخت دل سخت زبان ہے۔
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،خزاعی ہیں،حضرت عمر فاروق کے سوتیلے بیٹے اور حضرت عبداللہ ابن عمر کے اخیافی بھائی ہیں،آخر میں کوفہ میں رہے۔ ۲؎ غلیظ کے معنی ہیں سخت دل اور فظ کے معنی ہیں سخت زبان کہ ہر ایک سے سخت کلامی کرے۔ ۳؎ مقصد یہ ہے کہ جواظ اور جعظری کے ایک معنی ہیں سخت دل سخت زبان،بعض نے فرمایا کہ جعظری بڑے پیٹ والا موٹے جسم والا جو بہت کھائے کسی کو اپنے کھانے میں سے نہ کھلائے،زیادہ بولنے والا کہ ہر وقت بکے ہی جائے۔خطیب نے حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ سے مرفوعًا روایت کی کہ ہرشخص توبہ کرسکتا ہے سواء بدخلق کے کہ وہ ایک گناہ سے توبہ کرتا ہے تو اس سے بدتر گناہ میں گرفتار ہوجاتا ہے۔(مرقات) ۴؎ یعنی ناجائز مال جمع کرے اور جہاں خرچ کرنا چاہیے وہاں خرچ نہ کرے۔زکوۃ،صدقہ فطر،قربانی،بچوں کو خرچہ نہ دے یا وہ جو ہر وقت مال جمع کرنے کی فکر میں لگا رہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فکر کبھی نہ کرے۔جائز مال جمع کرنا برا نہیں مگر ہر وقت جمع کی فکر میں لگا رہنا منع ہے۔خیال رکھو کہ جاری پانی پاک رہتا ہے،یوں ہی جس کنویں سے پانی نکلتا رہے وہ صاف رہتا ہے اگر نکالنا چھوڑ دیا جاوے تو گندا ہوجاتا ہے،اللہ کی راہ میں مال نکالتے رہو پاک صاف رہے گا۔شیخ سعدی فرماتے ہیں شعر زکوۃ مال بدر کن کہ دفتر زرا چو باغبان بدر و بیشتر وہد انگور زکوۃ نکالے جاؤ،انگور کی بیل کاٹتے رہنے سے زیادہ انگور دیتی ہے۔