| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے مزینہ کے ایک شخص سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ انسان کو بہترین چیز کون سی دی گئی ہے فرمایا اچھی عادت ۱؎(بیہقی شعب الایمان)اور شرح السنہ میں حضرت اسامہ ابن شریک ہے۔
شرح
۱؎ مزینہ ایک قبیلہ کا نام ہے،یہ صحابی اس قبیلہ سے ہیں،چونکہ صحابی تمام کے تمام عادل ہیں کوئی فاسق نہیں لہذا اگر صحابی کا نام معلوم نہ ہو تو حدیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا حتی کہ صحابی کا ارسال بھی صحیح ہے یعنی اگر کوئی صحابی کہہ دیں کہ میں نے کسی اور صاحب سے سنا انہوں نے حضور سے سنا تب بھی حدیث قوی اورصحیح ہے۔(مرقات) ۲؎ اچھی عادت سے مراد وہ ہے جو ابھی عرض کیا گیا جس سے دنیا اور دین دونوں درست ہوجاویں۔