۱؎ یعنی شرم و حیاء ایمان کا رکن اعلیٰ ہے۔دنیا والوں سے حیاء دنیاوی برائیوں سے روک دیتی ہے،دین والوں سے حیاء دینی برائیوں سے روک دیتی ہے،اللہ رسول سے شرم و حیاء تمام بدعقیدگیوں بدعملیوں سے بچالیتی ہے،ایمان کی عمارت اسی شرم و حیاء پر قائم ہے،درخت ایمان کی جڑ مؤمن کے دل میں رہتی ہے اس کی شاخیں جنت میں ہیں۔
۲؎ یعنی جو شخص زبان کا بے باک ہو کہ ہر بری بھلی بات بے دھڑک منہ سے نکال دے تو سمجھ لو کہ اس کا دل سخت ہے اور اس میں حیاء نہیں۔سختی وہ درخت ہے جس کی جڑ انسان کے دل میں ہے اور اس کی شاخ دوزخ میں،ایسے بے دھڑک انسان کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ رسول کی بارگاہ میں بھی بے ادب ہوکر کافر ہوجاتا ہے لہذا یہ فرمان عالی بالکل ہی صحیح ہے ۔حضور حکیم مطلق ہیں ہماری بیماریوں ازاریوں پر ہم سے زیادہ خبردار ہیں۔