۱؎ اللہ تعالیٰ نے جیسے دنیاوی جسمانی روزیوں میں بندوں کے مختلف حصے رکھے ہیں اسی لیے کوئی امیر ہوتا ہے،کوئی فقیر،کوئی دبلا،کوئی بیمار،کوئی موٹا طاقتور اور تندرست،اسی طرح اس کریم نے روحانی ایمانی روزیاں پیدا فرمائیں اور ان میں اپنے بندوں کے مختلف حصے رکھے۔یہاں ارشاد ہوا کہ جس کو لطف و کرم نرمی طبیعت سے زیادہ حصہ ملا اسے دوسری نعمتوں سے بھی کافی حصہ ملے گا۔
۲؎ یہ بات تجربہ سے بھی معلوم ہوگئی ہے کہ بدخلق سخت طبیعت آدمی اپنے کنبہ محلے میں بھی ذلیل رہتا ہے اور مسجد کی حاضری سے بھی محروم ہوجاتا ہے،محلے والے اس کا مسجد میں آنا پسند نہیں کرتے کہ وہ امام اور نمازیوں سے لڑتا ہی رہتا ہے،مسجد بھی اس سے پناہ مانگتی ہے،یہ ہے دنیا و آخرت کے حصوں سے محرومی۔سختی دل سے اللہ بچائے!