۱؎ یعنی سارے مسلمانوں میں مجھے بڑا پیارا مسلمان وہ معلوم ہوتا ہے مجھے اس سے بڑی محبت ہے جس کے اخلاق پاکیزہ خصلت اچھی ہے۔اگر حضور کا پیارا بننا ہے تو خوش خلقی اختیارکرو۔
۲؎ اچھی عادت والا بندہ اللہ تعالیٰ کو پیارا ہے،اس کے حبیب کو پیارا،مخلوق کو پیارا،دنیاوی معاملات میں نہایت نرمی دین میں نہایت پختگی و سختی،یہ ہے خلق محمدی اسی کی یہاں تعلیم ہے۔افسوس! کہ آج ہم رفع یدین،آمین بالجہر،قراءت خلف الامام کے مسائل پر سر پھوڑے جاتے ہیں اگر یہ اعمال سنت ہیں تو کیا اخلاق محمدی سنت نہیں ان پر بھی ہم کو توجہ دینا چاہیے۔