Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
900 - 975
حدیث نمبر 900
روایت ہے حضرت نواس ابن سمعان ۱؎  سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا ۲؎ تو فرمایا نیکی اچھی عادت ہے۳؎  اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینہ میں چبھے اور تو یہ ناپسند کرے کہ اس پر لوگ خبردار ہوں ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎  آپ صحابی ہیں،قبیلہ بنی کلب سے ہیں،بعض نے فرمایا کہ آپ انصاری ہیں،آخر میں شام میں قیام فرمایا۔ مرقات نے فرمایا کہ آپ اصحاب صفہ سے ہیں،اشعہ نے فرمایا کہ آپ کی والدہ کلابیہ سے حضور نے نکاح کیا اور طلاق دے دی اور کلابیہ عورت آپ کی والدہ ہی تھیں۔(اشعہ)

۲؎  یعنی نیکی اور گناہ کی پہچان کیا ہے مجھے کیسے پتہ لگے کہ یہ کام نیکی ہے اور یہ کام گناہ ہے مجھے ارشاد فرمائیں۔

۳؎  اچھی عادت عام ہے مخلوق کے ساتھ برتاوا اور خالق سے معاملات سب ہی کو شامل ہے نماز روزہ کی پابندی اچھی عادت ہے گناہوں سے بچنا اچھی عادت ہے وغیرہ ۔

۴؎  یہ فرمان کامل مسلمانوں کے لیے ہے جیسے ہم کو مکھی ہضم نہیں ہوتی فورًا قے ہو جاتی ہے یوں ہی صالحین کو گناہ ہضم نہیں ہوتا فورًا انہیں دلی قبض روحانی تکلیف محسوس ہوتی ہے عام لوگوں کا یہ حال نہیں۔بعض تو گناہ پر خوش ہوکر اعلان کرتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم حکیم مطلق ہیں ہر شخص کو اس کے مطابق دواء عطا فرماتے ہیں،یوں ہی الناس سے مراد مقبول بندے ہیں۔امام نووی نے حضرت وابعہ ابن معید اسدی سے روایت کی کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا کہ نیکی اور گناہ کیا ہوتے ہیں فرمایا اپنے دل سے فتویٰ لیا کرو جسے تمہارا دل نیکی کہے وہ نیکی ہے جسے تمہارا دل گناہ کہے وہ گناہ ہے۔(اربعین للنووی و مرقات)یعنی تمہارا دل جس پر ہمارا ہاتھ ہے ہر دل کا یہ حال نہیں۔
Flag Counter