۱؎ یہ کلام بمعنی چیز ہے یعنی گزشتہ انبیاءکرام نے اپنی امتوں سے جو حکیمانہ کلام فرمائے ان میں سے ایک یہ کلام شریف بھی ہے کہ جب تیرے دل میں اللہ رسول کی اپنے بزرگوں کی شرم و حیاء نہ ہوگی تو برے سے برے کام کر گزرے گا کیونکہ برائیوں سے روکنے والی چیز تو غیرت ہے جب وہ نہ رہی تو برائی سے کون روکے،بہت لوگ اپنی بدنامی کے خوف سے برائیاں نہیں کرتے مگر جنہیں نیک نامی بدنامی کی پرواہ نہ ہو وہ ہر گناہ کر گزرتے ہیں۔ایک شاعر کہتا ہے
اذا لم تخش عاقبۃ اللیالی ولم تستحی فاصنع ماتشاء
فلا و اللہ ما فی العیش خیر وفی الدنیا اذا ذھب اللیالی