۱؎ اس سے کہہ رہا تھا کہ تو بہت شرمیلا ہے اتنی شرم نہ کیا کر کیونکہ بہت شرمیلا آدمی دنیا کما نہیں سکتا،یہاں وعظ سے مراد ڈرا کر نصیحت کرنا ہے۔(مرقات)
۲؎ یعنی اسے حیاءوغیرت سے نہ روکو اسے شرمیلا رہنے دو۔
۳؎ خیال رہے کہ جو حیا گناہوں سے روک دے وہ تقویٰ کی اصل ہے اور جو غیرت و حیاء اللہ کے مقبول بندوں کی ہیبت دل میں پیدا کردے وہ ایمان کا رکن اعلیٰ ہے اور جو حیاء نیک اعمال سے روک دے وہ بری ہے،بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو نماز پڑھنے سے شرم لگتی ہے یہ حیاء نہیں بے وقوفی ہے،یہاں پہلے یا دوسرے درجہ کی حیاء مراد ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں اپنا خوف اپنے حبیب کی غیرت نصیب کرے۔اعلیٰ حضرت اقدس سرہ فرماتے ہیں
دن لہو میں کھونا تجھے شب نیند بھر سونا تجھے شرمِ نبی خوفِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں