Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
895 - 975
باب الرفق و الحیاء و حسن الخلق

نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ رفق کے معنی ہیں نرمی،یہ بنا ہے رفاقت سے اس سے ہے رفیق،اپنے رفقاء کی خاطر مدارات کرنا بھی رفق ہے۔حیاء(شرم) اس دلی رکاوٹ کو کہتے ہیں جس کے ساتھ ہیبت بھی ہو،گزشتہ خطا پر ہیبت آئندہ کے لیے وحشت ہو اپنے اور غیر کے معاملہ میں انصاف کرنا اچھا خلق ہے،حضور کا خلق قرآن مجید ہے،حضور کا خلق وہ عادت کریمہ ہے جس سے خلق بھی خوش خالق بھی راضی ہے۔

اولو البروالاحسان والصروالنقی 	حلالھم بھاجاء القرآن مفضلا
حدیث نمبر 895
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نرمی فرمانے والا ہے نرمی کو پسند کرتا ہے ۱؎  اور نرمی پر وہ عطا فرماتا ہے جو سختی پر عطا نہیں کرتا ۲؎  اور وہ جو اس کے ماسواء پر نہیں دیتا(مسلم)اور ان کی ایک روایت ہے کہ حضور نے حضرت عائشہ سے فرمایا تم نرمی اختیارکرو اور سختی اور بدگمانی سے بچو۳؎ کسی چیزمیں نرمی نہیں ہوتی مگر اسے اچھا کردیتی ہے اورکسی چیز سے یہ نہیں نکالی جاتی مگر اسے عیب ناک کردیتی ہے ۴؎
شرح
۱؎ اللہ تعالیٰ رفیق یعنی کریم و رحیم ہے کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ حکم نہیں دیتا گناہ بخشتا ہے،وہ چاہتا ہے کہ میرے بندے بھی اپنے ماتحتوں اپنے ساتھیوں پر رحیم وکریم ہوں۔خیال رہے کہ اللہ تعالٰی کو عام محاورہ میں رفیق کہنا جائز نہیں یہ لفظ اسماء الہیہ سے نہیں ہے،یہاں لغوی معنی سے استعمال ہوا۔

۲؎  یعنی دنیاوآخرت کے نرمی سے وہ کام بن جاتے ہیں جو سختی سے نہیں بنتے،اکثر سختی سے دوست دشمن بن جاتے ہیں بنتے ہوئے کام بگڑ جاتے ہیں،نرمی سے دشمن دوست ہوجاتے ہیں اور بگڑتے ہوئے کام بن جاتے ہیں۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا

یا طالب  الرزق الھینی بقوۃ		ھیہات  انت    بباطل       مشغوف

اکل العقاب بقوۃ جیف القلا	درعی الذباب الشھد وھو ضعیف

یعنی سختی سے روزی نہ کماؤ نرمی سے کماؤ،عقاب سختی کی وجہ سے مردار ہی کھاتا ہے،شہد کی مکھی نرمی کی وجہ سے پھول چوستی ہے۔(مرقات)

۳؎  بدگوئی نتیجہ ہے سختی کا اولًا دل میں سختی آتی ہے،پھر بدگوئی،زبان درازی،پھر ہاتھا پائی یعنی مار پیٹ،پھر قتل و خون خدا محفوظ رکھے،شیطان پر سخت رہو بھائی مسلمان پر نرم۔

۴؎  یعنی اگر حقیر آدمی کے دل میں نرمی ہو تو وہ عزیز بن جاوے گا،عظیم الشان آدمی کے دل میں سختی ہو تو وہ حقیر ہوجاوے گا۔مولانا فرماتے ہیں شعر

دربہاراں کے شود سرسبز سنگ		خاک شوتا گل بروید رنگ رنگ

لوہا  نرم ہوکر  اوزار بنتا ہے، سونا نرم ہوکر زیور، زمین  نرم ہوکر قابل کاشت ہوتی ہے، انسان نرم ہوکر ولی بن جاتا ہے۔
Flag Counter