Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
894 - 975
حدیث نمبر 894
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خرچ میں میانہ روی آدھی زندگی ہے ۱؎  اور لوگوں سے محبت کرنا آدھی عقل ہے ۲؎  اور اچھا سوال  آدھا علم ہے۳؎  ان چاروں حدیثوں کوبیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ۴؎
شرح
۱؎  سبحان اللہ! عجیب فرمان عالی ہے۔خوش حالی کا دارومدار دو چیزوں پر ہے: کمانا،خرچ کرنا مگر ان دونوں میں خرچ کرنا بہت ہی کمال ہے،کمانا سب جانتے ہیں خرچ کرنا کوئی کوئی جانتا ہے،جسے خرچ کرنے کا سلیقہ آگیا وہ ان شاءاللہ ہمیشہ خوش رہے گا یہاں معیشۃ مصدر ہے بمعنی عیش کی زندگانی۔

۲؎  یعنی عقل کے سارے کام ایک طرف ہیں اور لوگوں سے محبت کرکے انہیں اپنا بنالینا ایک طرف لوگوں کی محبت سے دینی دنیاوی ہزاروں کام نکلتے ہیں،لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کرلو پھر انہیں نمازی حاجی غازی بنادو مگر خیال رہے کہ لوگوں کی محبت حاصل کرنے کے لیے اللہ رسول کو ناراض نہ کرلو بلکہ لوگوں سے محبت اللہ رسول کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔

۳؎  یعنی علم و تعلیم میں دو چیزیں ہوتی ہیں: شاگرد کا سوال،استاد کاجواب ان دونوں سے مل کر علم  کی تکمیل ہوتی ہے،اگر شاگرد سوال اچھے کرے گا جواب بھی اچھے پائے گا۔ایک استاد اپنے شاگردوں سے کہتے تھے کہ میں تم مل کر علم کا نصاب ہیں،حافظ قرآن تم ہو مفسر قرآن میں،سائل تم ہو مجیب میں۔(مرقات)ذہین طالب علم اچھے سوال کرکے علم کی باریکیاں حاصل کر لیتا ہے۔

۴؎  آخری حدیث طبرانی نے مکارم اخلاق میں حضرت ابن عمر سے اور خطیب نے حضرت انس سے بھی مرفوعًا روایت کی،احمد نے حضرت ابن مسعود سے روایت کی ماعال من اقصد جو خرچ میں میانہ روی کرے گا وہ غریب نہ ہوگا۔(مرقات)
Flag Counter