Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
893 - 975
حدیث نمبر 893
روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ابوذر تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ۱؎ اور بچنے جیسا کوئی تقوی نہیں۲؎  اور اچھے اخلاق جیسا کوئی نسب نہیں۳؎
شرح
۱؎ عقل دو قسم کی ہے: عقل مطبوع اور عقل مسموع۔تدبیر سے مراد عقل مسموع ہے کہ اس کے بغیر عقل مطبوع بے کار ہے،ہاں عقل مسموع کبھی عقل مطبوع کے بغیر مفید ہوجاتی ہے۔عقل مطبوع وہ ہے جو فطری طور پر یا تجربہ یا عقل کے ذریعہ حاصل ہو۔عقل مسموع وہ ہے جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم سے حاصل ہو۔عقل مطبوع دنیاوی انجام کو معلوم کرتی ہے،عقل مسموع اخروی انجام کا پتہ چلاتی ہے،عقل مطبوع کے ساتھ جب عقل مسموع شامل ہو تو مفید ہے۔(مرقات)

۲؎  تقوی کے دو رکن ہیں: اچھے کام کرنا،برے کاموں سے بچنا مگر اس کا رکن اعلیٰ برے کاموں سے بچنا ہے۔ عبادات آسان ہیں مگر محرمات سے پرہیز،برے معاملات سے بچنا بہت ہی مشکل ہے۔بعض کے نزدیک ورع اور تقویٰ ایک ہی چیز ہے،بعض کے نزدیک محرمات سے بچنا تقویٰ ہے اور شبہ کی چیز سے بچنا ورع یا فرائض پر عمل تقویٰ ہے،سنت و مستحب پر عمل ورع۔خیال رہے نیکیاں گویا روحانی دوائیں ہیں گناہوں سے بچنا گویا روحانی  پرہیز ،دوا بغیر پرہیز مفید نہیں ہوتی۔(اشعہ)

۳؎  لغت میں حسب بمعنی نسب ہے یا باپ کی طرف سے نسب ماں کی طرف سے حسب مگر یہاں اس سے مراد شرافت ہے یعنی شرافت  صرف نسب سے نہیں بلکہ اچھے اخلاق اچھے اعمال سے ہے،رب تعالیٰ فرماتا ہے:"اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ"اچھی عادت،عبادات معاملات بلکہ ایمان و عرفان سب ہی داخل ہیں،کتنی ہی تواضع کرے خوش اخلاق نہیں جس نے اللہ رسول سے بگاڑلی،جو انہیں راضی نہ کرسکا وہ خوش اخلاق کہاں سے آیا ہے یہ بات خوب یاد رکھو۔
Flag Counter