Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
892 - 975
حدیث نمبر 892
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ایک شخص نماز روزے زکوۃ حج وغیرہ والوں میں سے ہوتا ہے حتی کہ حضور نے نیکی کے سارے اقسام بیان فرمائے ۱؎  مگر قیامت میں اپنی عقل کے مطابق ہی بدلہ دیا جاوے گا ۲؎
شرح
۱؎ یعنی جہاد،تبلیغ،لیثی،تعمیرمساجد وغیرہ تمام نیکیوں کا نام لیا کہ بعض لوگ یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر ثواب کم پاتے ہیں۔

۲؎ چنانچہ بے وقوفوں کو ان نیکیوں کا ثواب کم ملتا ہے عقل مندوں کو زیادہ،جہاں مسجد کی ضرورت نہ ہو وہاں دس بیس مسجدیں بنوا دینے کا ثواب کم بلکہ بالکل ہی نہ ملے گا اور اگر وہاں پانی کی کمی ہو وہاں ایک کنواں کھدوا دینے کا ثواب ان مسجدوں سے زیادہ ہوگا۔

لطیفہ: پٹنہ کے ایک بزرگ ہر پانچ قدم پر دو رکعتیں پڑھتے ہوئے حج کو پیدل جارہے تھے دس سال میں وہ گجرات پہنچے ہم نے کہا کہ اگر وہ ہوائی جہاز سے مکہ مکرمہ پہنچ جاتے اور اتنے روز وہاں رہ کر نوافل پڑھتے تو فی رکعت ایک لاکھ کا ثواب پاتے۔
Flag Counter