۱؎ یعنی جہاد،تبلیغ،لیثی،تعمیرمساجد وغیرہ تمام نیکیوں کا نام لیا کہ بعض لوگ یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر ثواب کم پاتے ہیں۔
۲؎ چنانچہ بے وقوفوں کو ان نیکیوں کا ثواب کم ملتا ہے عقل مندوں کو زیادہ،جہاں مسجد کی ضرورت نہ ہو وہاں دس بیس مسجدیں بنوا دینے کا ثواب کم بلکہ بالکل ہی نہ ملے گا اور اگر وہاں پانی کی کمی ہو وہاں ایک کنواں کھدوا دینے کا ثواب ان مسجدوں سے زیادہ ہوگا۔
لطیفہ: پٹنہ کے ایک بزرگ ہر پانچ قدم پر دو رکعتیں پڑھتے ہوئے حج کو پیدل جارہے تھے دس سال میں وہ گجرات پہنچے ہم نے کہا کہ اگر وہ ہوائی جہاز سے مکہ مکرمہ پہنچ جاتے اور اتنے روز وہاں رہ کر نوافل پڑھتے تو فی رکعت ایک لاکھ کا ثواب پاتے۔