۱؎ نساء کہتے ہیں دیر لگانے کو اس لیے ادھار کو نسیہ کہا جاتا ہے کہ وہاں مال دیر سے ملتا ہے۔اثر کہتے ہیں نشان قدم کو،مرنے سے نشان قدم جاتے رہتے ہیں کہ پھر انسان چلتا پھرتا نہیں،پھر زندگی کو اثر کہنے لگے کہ زندگی میں نشان قدم زمین میں پڑتے ہیں۔موت میں دیر لگانے سے مراد ہے عمر دراز دینا یعنی جو رزق میں برکت عمر میں درازی چاہے وہ رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے۔خیال رہے کہ تقدیر تین قسم کی ہے: مبرم،معلق،مشابہ مبرم،تقدیر مبرم میں کمی و بیشی ناممکن ہے مگر باقی دو تقدیروں میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔دعا نیک اعمال سے عمر بڑھ جانے اور بد دعا بدعمل سے عمر گھٹ جانے کا یہ ہی مقصد ہے کہ آخری دو قسم کی عمریں گھٹ بڑھ جاتی ہیں۔ہم یہ مسئلہ باب القدر میں بیان کرچکے ہیں اور تفسیرنعیمی کے پہلے پارہ میں بھی عرض کرچکے ہیں۔دیکھو حضرت آدم علیہ السلام کی دعا سے حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر بجائے ساٹھ سال کے سو۱۰۰ برس ہوگئی،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وفات یافتہ لوگ جی جاتے تھے اور زندہ رہتے تھے۔