| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے عبدالرحمن ابن عقبہ سے وہ حضرت ابی عقبہ سے راوی ۱؎ اور وہ فارسی غلام سے تھے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ احد میں حاضر ہوا تو میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو مارا تو میں نے کہا لے لے مجھ سے میں فارسی غلام ہوں ۲؎ تو میری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا فرمایا تم نے کیوں نہ کہا کہ مجھ سے یہ لے اور میں انصاری غلام ہوں ۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یہ عبدالرحمن تابعی ہیں،ان کے والد ابوعقبہ صحابی ہیں یہ اہل فارس سے تھے،جبیر ابن عتیق انصاری کے آزاد کردہ غلام تھے لہذا نسبًا فارسی تھے مگر موالات کے لحاظ سے انصاری تھے،ان کا نام رشد ہے کنیت ابو عقبہ۔ ۲؎ یعنی میں نے اپنے فارسی النسل ہونے پر فخرکرتے ہوئے کافر پر حملہ کیا۔ ۳؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فارسی ہونے کے فخر کرنے پر ناراضی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ اپنے کو مسلمانوں کی طرف نسبت کرو اس پر فخر کرو اور اس زمانہ میں اہلِ فارس کفار تھے اب وہاں اسلام عام شائع ہے اور عام لوگ مسلمان ہیں چونکہ قوم کا مولا انہیں میں سے ہوتا ہے اس لیے انہیں غلام انصاری فرمایا گیا لہذا اس کا مطلب واضح ہے۔