۱؎ معلوم ہوا کہ جو نزلہ زکام کا بیمار ہو اسے ہر چھینک پر جواب نہ دے کہ اس میں بہت حرج ہوگا کہ پھر تو وہ زکام والا کسی کو بات نہ کرنے دے گا وہ چھینکے جاوے تم جواب دیئے جاؤ جیسے اذان کا جواب دے مگر پہلی اذان کا پھر اذانیں سنتا رہے جواب دینا ضروری نہیں۔
۲؎ زیادہ روایات تین کی ہی ہیں کہ حضور انور نے تیسری چھینک پر فرمایا کہ تجھے زکام ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ زکام والے شخص کو بجائے جواب دینے کے کہے شفاك اللہ تجھے اللہ شفادے مگر یہ قول درست نہیں کیونکہ دعاءصحت تو ویسے ہی کرنی چاہیے چھینک پر کیا موقوف ہے یہ وقت شفا کی دعا کا نہیں ہے،نیز زکام بیماری نہیں ہے بلکہ دماغی بیماریوں کا علاج اس سے بہت مرض دفع ہوجاتے ہیں۔(مرقات)زکام والے کو دیوانگی و جنون نہیں ہوتا جسے کبھی خارش ہواسے جذام و کوڑ ھ نہیں ہوتا،زکام و خارش میں رب تعالیٰ کی بہت حکمتیں ہیں۔