Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
573 - 975
حدیث نمبر 573
 روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو  سنا  اور  آپ کے پاس ایک شخص نے چھینک لی تو اس سے فرمایا یرحمك اللہ اس نے پھر دوبارہ چھینک لی تو فرمایا کہ یہ شخص زکام والا ہے ۱؎(مسلم) اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ حضور نے تیسری بار میں فرمایا کہ وہ زکام والا ہے ۲؎
شرح
۱؎ معلوم ہوا کہ جو نزلہ زکام کا بیمار ہو اسے ہر چھینک پر جواب نہ دے کہ اس میں بہت حرج ہوگا کہ پھر تو وہ زکام والا کسی کو بات نہ کرنے دے گا وہ چھینکے جاوے تم جواب دیئے جاؤ جیسے اذان کا جواب دے مگر پہلی اذان کا پھر اذانیں سنتا رہے جواب دینا ضروری نہیں۔

۲؎  زیادہ روایات تین کی ہی ہیں کہ حضور انور نے تیسری چھینک پر فرمایا کہ تجھے زکام ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ زکام والے شخص کو بجائے جواب دینے کے کہے شفاك اللہ تجھے اللہ شفادے مگر یہ قول درست نہیں کیونکہ دعاءصحت تو ویسے ہی کرنی چاہیے چھینک پر کیا موقوف ہے یہ وقت شفا کی دعا کا نہیں ہے،نیز زکام بیماری نہیں ہے بلکہ دماغی بیماریوں کا علاج اس سے بہت مرض دفع ہوجاتے ہیں۔(مرقات)زکام والے کو دیوانگی و جنون نہیں ہوتا جسے کبھی خارش ہواسے جذام و کوڑ ھ نہیں ہوتا،زکام و خارش میں رب تعالیٰ کی بہت حکمتیں ہیں۔
Flag Counter