۱؎ چھینک کے جواب کو تشمیت کہتے ہیں یہ بنا ہے شمت سے بمعنی آفت و مصیبت یا لوگوں کا طعنہ۔اس سے ہے شماتت اعداء باب تفعیل سلب کے لیے ہے لہذا اس کے معنی ہوئے ہوئے مصیبت دور کرنا یعنی دعا دینا دعاء خیر کو تشمیت اسے لیے کہا جاتا ہے۔
۲؎ معلوم ہوا کہ چھینکنے والے کا جواب جب دیا جاوے جب وہ الحمدﷲ کہے اور یہ سنے بھی ایک شخص نے دیوار کے پیچھے چھینک لی تو حضرت عمر نے فرمایا یرحمك اللہ ان حمدت اللہ اگر تو نے رب کی حمد کی ہو تو خدا تجھ پر رحم کرے اگر اکیلا آدمی چھینک لے اور الحمدﷲ کہے کوئی جواب دینے والے نہ ہو تو خود ہی کہہ لے یغفر اللہ لی ولکم کیونکہ فرشتے اس کی چھینک کا جواب دیتے ہیں یہ ان کی نیت سے یہ دعاکرے جیسے نماز کے سلام میں فرشتوں کی نیت کرے اگر اکیلا ہو۔(مرقات)