۱؎ یعنی تم بغیر آواز دیئے دروازہ کا پردہ اٹھاؤ گھر میں آجاؤ اگرچہ میں کسی سے خفیہ بات کررہا ہوں تم کو اجازت ہے کہ آجاؤ میری وہ بات سن لو،یہ آپ کی نہایت اہم خصوصیت ہے کہ آستانہ عالیہ میں ایسے باریاب ہیں رضی اللہ عنہ۔چونکہ آپ حضور انور کے خادم خاص تھے اور خصوصی خدام جنہیں بار بار گھر میں آنا جانا رہتا ہے انہیں ہر دفعہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں کہ اس پابندی میں تکلیف ہوگی انہیں بھی اور گھر والوں کو،بھی حضور کا یہ فرمان ان کے لیے دائمی اجازت ہوگیا۔خیال رہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت ابن مسعود سے ازواج پاک پردہ نہیں کرتی تھیں کیونکہ مکان سے مردانہ مکان مراد ہے نہ کہ زنانہ یا یہ فرمان عالی پردہ فرض ہونے سے پہلے ہے۔(مرقات)سواد سین کے کسرہ سے،خفیہ آواز یعنی بھنک۔
۲؎ یعنی اگر کسی وقت میں تم کو آتے ہوئے اشارۃً منع کردوں تب نہ آنا وہ کوئی خاص صورت ہوگی گویا یہ عمومی اجازت ہے وہ خصوصی ممانعت ہوگی۔