| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ میں سریانی زبان سیکھ لوں ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ مجھے حکم دیا کہ میں یہود کی خط و کتابت سیکھ لوں اور فرمایا کہ میں کسی تحریر میں یہود پر مطمئن نہیں۲؎ فرماتے ہیں کہ مجھ پر آدھا مہینہ نہیں گزرا حتی کہ میں نے سیکھ لی تو جب حضور یہود کو لکھتے تو میں لکھتا اور جب وہ حضور کو کچھ لکھتے تو حضور کی خدمت میں ان کا خط میں پڑھتا ۳؎(ترمذی)
شرح
۱؎ سریانی زبان وہ ہے جس میں توریت شریف نازل ہوئی،یہود عمومًا یہ ہی زبان بولتے اور لکھتے تھے،سریانی زبان عبرانی کے مشابہ یا اس کی شاخ ہے۔(اشعہ)اب یہ زبانیں دنیا سے مٹ چکیں صرف ان کے نام رہ گئے کسی جگہ نہیں بولی جاتیں جیسے ہندوؤں کی سنسکرت کہ دنیا سے مٹ چکی کہیں نہیں بولی جاتی،سریانی عبرانی زبانوں کی جگہ عربی نے لے لی۔ ۲؎ یعنی ہم یہود کو تبلیغ کرنے کے لیے انہیں خطوط لکھنا بھی چاہتے ہیں اور ان کے جوابات ملاحظہ کرنا بھی چاہتے ہیں،اگرلکھنے پڑھنے کا کام یہود مدینہ سے لیا جاوے تو ان کی خیانت کا اندیشہ ہے کہ ہم کچھ لکھوائیں وہ کچھ لکھ دیں یا یہود کے خطوط میں کچھ لکھا ہو یہ کچھ پڑھ دیں لہذا یہ دونوں کام تم خود کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفار کی زبان سیکھنا ممنوع نہیں بلکہ ضرورت پر اس کا حکم ہے جیسے آج انگریزی یا فرنچ زبانیں ضرورت کے لیے سیکھی جاویں۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم قدرتی طور پر تمام زبانیں جانتے ہیں جب حضور جانوروں،پتھروں،کنکروں کی بولیاں سمجھتے ہیں تو انسانوں کی بولی کیوں نہ سمجھیں گے،یہ حکم عالی امت کی تعلیم کے لیے ہے کہ امراء و سلاطین اپنے ہاں دوسری قوموں کی زبان دانی رکھیں بلکہ خود اپنے لوگوں کو ان کی زبان سکھائیں زبان کوئی بری نہیں سب رب تعالٰی کی طرف سے ہیں،فرماتاہے:"وَ مِنْ اٰیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ"۔ ۳؎ صرف پندرہ دن میں سریانی زبان کما حقہ سیکھ لینا یا حضرت زید کی ذکاوت سے ہے یا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے معجزے سے۔اس سے معلوم ہوا کہ بادشاہوں کے ہاں ترجمان رہنے چاہئیں۔