Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
467 - 975
حدیث نمبر 467
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مؤمن کے مؤمن پر چھ حق ہیں ۱؎  جب وہ بیمار ہو تو مزاج پرسی کرے ۲؎  اور جب مرجاوے تو جنازہ پر حاضر ہو ۳؎  جب دعوت دے تو قبول کرے،جب اس سے ملے تو اسے سلام کرے اور جب چھینکے ۴؎  تو جواب دے اور اس کی خیر خواہی کرے جب وہ غائب ہو یا حاضر ۵؎  یہ روایت میں نے نہ تو مسلم،بخاری میں پائی نہ کتاب حمیدی میں لیکن اسے جامع والے نے بروایت نسائی فرمایا ۶؎
شرح
۱؎ یہ حقوق اگرچہ واجب یا فرض یا سنت نہیں مگر حق اسلام ہیں اس لیے ارشاد علیٰ ہوا۔

۲؎  عیادت بنا ہے عود سے بمعنی لوٹنا رجوع کرنا،چونکہ بیمار کی مزاج پرسی بار بار کی جاتی ہے اسے عیادت کہتے ہیں۔

۳؎  تاکہ اس کی نماز جنازہ پڑھو،اسے دفن کرو۔بعض شارحین نے مات کے معنی کیے جب وہ مرنے لگے یعنی اس کے نزع کے وقت وہاں موجود ہو مگر پہلے معنی زیادہ مناسب ہیں۔(مرقات)آج کل امیروں کے جنازوں پر بڑا ہجوم ہوتا ہے غریب کی میت کو کوئی پوچھتا نہیں رب توفیق خیر دے۔

۴؎  دعوت سے مراد کھانے کی دعوت اس کا قبول کرنا سنت ہے بشرطیکہ دعوت ناجائز نہ ہو جیسے میت کے تیجے چالیسویں کی رسمی برادری کی دعوتیں کہ ان کا کھانا کھلانا دونوں ممنوع ہیں۔چھینک کا جواب جب دیا جاوے جب کہ وہ چھینکنے والا الحمدﷲ کہے تو سننے والا کہے یرحمك اللہ پھر چھینکنے والا کہے یھدیکم اللہ ویصلح بالکم۔تشمت کے لغوی معنی ہیں شماتت دورکرنا۔

۵؎  پسِ پشت خیرخواہی کرنا کمال ہے روبرو خیرخواہی کی باتیں کردینا آسان ہے بلکہ بسا اوقات خوشامد ہوتی ہے۔

۶؎  کتاب حمیدی میں صرف بخاری،مسلم کی احادیث جمع کی گئی ہیں اور جامع اصول میں صحاح ستہ کی روایت جمع کی گئی،اس عبارت کا مقصود صاحب مصابیح پر اعتراض کرنا ہے کہ وہ پہلی فصل میں ایسی حدیث لائے جو مسلم،بخاری میں نہیں مگر ادبًا کہا کہ میں نے وہاں یہ حدیث نہ پائی اپنی تلاش کی کوتاہی بیان کی۔
روایت ہے حضرت عمرو ابن شرید سے ۱؎  اور وہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں مجھ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم گزرے جب کہ میں اس طرح بیٹھا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے پیٹھ کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور میں نے اپنے ہاتھ کی سیرین پر ٹیک لگائی ہوئی تھی ۲؎  تو فرمایا تم ان لوگوں کی بیٹھک بیٹھتے ہو جن پر غضب کیا گیا ۳؎(ابوداؤد)
Flag Counter