Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
405 - 975
حدیث نمبر 405
روایت ہے حضرت عثمان ابن عبداللہ ابن موہب سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ مجھے گھر والوں نے ام سلمہ کے پاس پانی کا پیالہ دے کر بھیجا اور جب کسی آدمی کو نظر یا کوئی شے لگ جاتی تو ان کے پاس لگن بھیجتے تھے ۲؎  وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا بال نکالتیں انہوں نے حضور کا بال چاندی کی کپی میں رکھا ہوا تھا آپ اس کے لیے وہ بال ہلا دیتیں۳؎  اس سے انہوں نے پیا فرماتے ہیں میں نے کپی میں جھانکا تو چند سرخ بال دیکھے۴؎(بخاری)
شرح
۱؎  یہ عثمان تابعی ہیں،تیمی ہیں،حضرت طلحہ ابن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں،بڑے ثقہ اور عالم ہیں۔

۲؎  یعنی اہلِ مدینہ کو جب کوئی بیماری یا نظر بد یا کوئی اور تکلیف ہوتی تو وہ کسی ایسے برتن میں جس میں کپڑے دھوئے جاتے تھے پانی بھیج دیتے اور حضرت ام المؤمنین ام سلمہ وہ عمل فرماتیں ہیں جس کا ذکر ابھی ہورہا ہے۔

۳؎  جلجل لغت میں اس گھنگرو کو کہتے ہیں جو جانوروں کے گلوں میں ڈالے جاتے ہیں یہاں مراد کپی ہے کہ وہ بھی اسی شکل کی ہوتی ہے۔غالباً آپ وہ بال شریف مع اس کپی کے پانی میں گھول دیتی تھیں لوگ وہ پانی پیتے اور شفا پاتے۔

۴؎ بال کی یہ سرخی خضاب کی نہ تھی بلکہ وہ بال خوشبوؤں میں رکھے گئے تھے یہ رنگ اسی خوشبو کا تھا اس حدیث سے چند فائدے حاصل ہوئے: ایک یہ کہ حضرات صحابہ کرام حضور کے بال شریف برکت کے لیے اپنے گھروں میں رکھتے تھے۔دوسرے یہ کہ اس بال شریف کا بہت ہی ادب و احترام کرتے تھے کہ اس کے لیے خاص کپی(ڈبی)یا پونگی بناتے اس میں خوشبو بساتے تھے کیونکہ یہ رنگت خوشبو کی تھی نہ کہ خضاب کی۔ تیسرے یہ کہ صحابہ کرام حضور کے بال شریف کو دافع بلا باعث شفا سمجھے تھے کہ انہیں پانی میں غسل دے کر شفاء کے لیے پیتے تھے کیوں نہ ہو کہ جب یوسف علیہ السلام کی قمیض دافع بلا ہوسکتی ہے جیساکہ قرآن کریم فرما رہاہے:"اِذْہَبُوۡا بِقَمِیۡصِیۡ"الخ تو حضور انور کے بال شریف بدرجہ اولیٰ دافع بلا ہو سکتے ہیں۔چوتھے یہ کہ صحابہ کرام حضور کے بال شریف کی زیارت کرنے جاتے تھے جیساکہ روایت سے معلوم ہوا۔
Flag Counter