۱؎ چنانچہ حضرت انس نے اپنے اگلے سر کے بال کبھی نہ کٹوائے انہیں قبر میں ساتھ لے گئے کیونکہ ان بالوں کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ مبارک لگا کرتے تھے حالانکہ سر کے بعض بال رکھنا بعض کٹوانا ممنوع ہے مگر اس خصوصیت نے یہ ممانعت دور کردی۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی مس کی ہوئی چیزوں سے تبرک حاصل کرنا سنت صحابہ ہے،مدینہ منورہ کی زمین پاک کی خاک بھی تبرک ہے کہ اسے کبھی وہ تلوے لگے ہیں جو عرش اعظم پر گئے تھے۔شعر
کہاں یہ مرتبے اللہ اکبر سنگ اسود کے یہاں کے پتھروں نے پاؤں چومے ہیں محمد کے
اس حدیث سے تصوف کے بہت مسائل حاصل ہوسکتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو حضرت انس سے ان کے بچپن سے ہی بڑی محبت تھی،حضور پیار میں ان کے سر کے اگلے حصہ پر ہاتھ شریف رکھتے بالوں کو بٹتے تھے،آپ اس واقعہ کی طرف اشارہ فرمارہی ہیں۔