| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں گھسے تو داخلہ کے وقت اوراپنے کھانے کے وقت اللہ کا ذکر کرے تو شیطان کہتا ہے کہ نہ تمہارے لیے شب باشی ہے نہ کھانا ۱؎ اورجب داخل ہو تو اللہ کا ذکر اپنے داخلہ پر نہ کرے تو شیطان کہتا ہے تم نے شب باشی پالی اور جب اپنے کھانے پر اللہ کا ذکر نہ کرے تو کہتا ہے تم نے شب باشی اورکھانا پالیا ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ ہر شخص گھر میں داخل ہوتے وقت پوری بسم اللہ پڑھ کر داہنا قدم پہلے دروازہ میں داخل کرے پھر گھر والوں کو سلام کرتا ہوا گھر میں آئے،اگر کوئی نہ ہو تو السلام علیك ایہاالنبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہہ دے۔بعض بزرگوں کو دیکھا گیا کہ اول دن میں جب پہلی بار گھر میں ہوتے ہیں تو بسم اللہ اور قل ھو اللہ پڑھ لیتے ہیں کہ ا س سے گھر میں اتفاق بھی رہتا ہے اور رزق میں برکت بھی۔ ۲؎ شیطان کا یہ خطاب اپنی ذریت سے ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ اس خطاب میں قرین بھی داخل ہو کہ وہ بھی اس بسم اللہ کی برکت سے نہ کھائے اور ہمارے گھر میں رہنے سہنے سے محروم ہوجائے اور اس کے شر سے محفوظ ہو جائے اور اللہ کے ذکر سے غافل اس نعمت سے محروم رہے۔دوپہر کے کھانے کو غذاء کہتے ہیں اور بعد دوپہر سے رات تک کے کھانے کو عشاء کہا جاتا ہے،یہاں مراد مطلقًا کھانا ہے جو شخص صبح کو یہ عمل کرے تو ناشتہ اور دوپہر کے کھانے سے شیطان محروم ہوگا جو بعد دوپہر یہ عمل کرے تو رات کے کھانے سے وہ محروم رہے گا۔