۱؎ یعنی ہم بعض صحابہ زمانہ نبوی میں کبھی چلتے پھرتے کچھ کھالیا کرتے تھے جیسے دانے چابنا یا کھجور کھانا اور کبھی کھڑے کھڑے کچھ پی لیا کرتے تھے۔ظاہر یہ ہے کہ یہ عمل حضورصلی اللہ علیہ و سلم کی بغیر اطلاع کے ہوگا اگر حضور انور ملاحظہ فرماتے تو منع فرمادیتے کیونکہ چلتے پھرتے کھانا اور کھڑے کھڑے پینا ممنوع ہے،یوں گھوڑے پر سوار کھانا پینا بہتر نہیں۔(مرقات)ہوسکتا ہے کہ یہ چلتے پھرتے کھانا کھڑے کھڑے پینا کسی مجبوری و معذوری سے ہو جیسے جہاد میں بارہا چلتے پھرتے کھانا پڑتا ہے یا ایسی چیز کھائی ہو جو عمومًا چلتے پھرتے کھائی جاتی ہے جیسے دانے یا کھجوریں ورنہ کھڑے کھڑے یا چلتے پھرتے روٹی چاول وغیرہ کھانا ممنوع ہے خصوصًا جب کہ فیشن کے طور پر ہو جیسے آج کل مغرب زدہ مسلمانوں کا حال ہے کہ جانوروں کی طرح کھڑے کھڑے کھاتے ہیں محض عیسائیوں کی نقالی کرتے ہوئے۔
۲؎ یعنی یہ حدیث تین اسنادوں سے مروی ہے ایک اسناد سے حسن ہے دوسری سے غریب تیسری سے صحیح، متن ایک ہے اسناد تین۔