| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک انصاری صاحب کے پاس گئے حضورکے ساتھ آپ کے ایک صحابی بھی تھے ۱؎ آپ نے سلام کیا اس نے جواب دیا وہاں باغ میں پانی پھررہا تھا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تیرے پاس پانی مشکیزہ میں ہو تو لاؤ ورنہ ہم منہ سے پی لیں۲؎ وہ بولا میرے پاس مشکیزہ میں باسی پانی ہے چنانچہ وہ چھبر کی طرف گیا ۳؎ پیالہ میں پانی انڈیلا پھر اس پر پالی ہوئی بکری دوہی۴؎ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے پیا پھر دوبارہ لایا پھر اس شخص نے پیا جو آپ کے ساتھ آیا تھا ۵؎(بخاری)
شرح
۱؎ وہ صحابی حضرت ابوبکر صدیق تھے اور باغ والے ابوالہیشم تھے یا کوئی اور انصاری۔ ۲؎ عربی میں کرع اس طرح پینے کو کہتے ہیں کہ اس میں ہاتھ استعمال نہ ہو یعنی نالی یا نہر سے منہ لگا کر پی لینا۔ ۳؎ عریش بنا ہے عرش سے بمعنی بلندی،اصطلاح میں عریش وہ جھونپڑا ہے جو باغ یا کھیت میں گھا س یا تنکوں سے بنایا جائے اس لیے انگور کی بیل پھیلانے کے لیے جو جگہ چھت دی جاتی ہے اسے عریش کہتے ہیں بمعنی معروشات۔قرآن کریم فرماتاہے:"مَّعْرُوْشٰتٍ"۔ ۴؎ عربی میں داجن وہ بکری کہلاتی ہے جسے گھر رکھ کر چارا دیا جائے باہر جنگل میں چرنے کے لیے نہ بھیجا جائے۔اس کا مادہ دجن ہے بمعنی الفت و محبت،وہ بکری جانور گھر سے الفت رکھتا ہے مالوف ہوتا ہے اس لیے اسے داجن کہتے ہیں۔ ۵؎ یہ باغ والے صاحب ایک بار پانی لائے تو حضور انور نے پیا پھر دوبارہ لائے تو دوسرے صاحب یعنی حضرت ابوبکر صدیق نے پیا۔