| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت وحشی ابن حرب سے وہ اپنے والد سے راوی وہ اپنے دادا سے ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم کھاتے ہیں اور سیرنہیں ہوتے۲؎ فرمایا شاید تم الگ الگ کھاتے ہو عرض کیا ہاں۳؎ فرمایا اپنے کھانے پر جمع ہوجایا کرو اور اللہ کا نام لو تم کو اس میں برکت دی جائے گی ۴؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ ان کا نام وحشی ابن حرب ابن وحشی ابن حرب ہے،یہ وحشی تابعین سے ہیں اور ان کے دادا وحشی ابن حرب وہ ہی ہیں جنہوں نے زمانہ کفر میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا،پھر زمانہ اسلام میں خلافت صدیقی میں مسیلمہ کذاب کو جہنم رسید کیا یعنی وحشی نے اپنے باپ حرب سے روایت کی اور حرب نے اپنے باپ وحشی سے روایت کی جو کہ ان راوی وحشی کے دادا ہیں،ان وحشی صحابی کے بہت سے بیٹے ہیں یعنی حرب، اسحاق وغیرہم۔(مرقات و اشعہ) ۲؎ یعنی ہم کھاتے زیادہ ہیں اور سیری کم ہوتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہم کو قناعت اور قوۃ علی الطاعۃ نصیب ہو وہ کم میسر ہوتی ہے۔ ۳؎ یعنی گھر والے ایک ایک کر کے الگ الگ کھاتے ہیں جمع ہوکر ایک ساتھ نہیں کھاتے۔سبحان اللہ!یہ ہے مرض کا بیان ہے اور یہ ہے حکیم مطلق کی تشخیص اور پہچان۔ ۴؎ یہ ہے ان حکیم مطلق صلی اللہ علیہ و سلم کا علاج فرمانا کہ جمع ہوکر ایک ساتھ کھانے میں برکت ہے۔خیال رہے کہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوْ اَشْتَاتًا"یعنی تم پر گناہ نہیں مل کر کھاؤ یا الگ الگ کیونکہ آیت کریمہ میں الگ الگ کھانے کے جواز کا ذکر ہے اور اس حدیث پاک میں مل کر کھانے کے استحباب کا تذکرہ ہے۔