۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ غازی میدان جنگ میں کفار سے حاصل کیا ہوا کھانا،دودھ،گھی،پھل،روٹی،گوشت وغیرہ بقدر ضرورت کھا سکتا ہے اس کے لیے امیر جہاد سے اجازت لینا ضروری نہیں،یوں ہی دوائیں استعمال کرسکتا ہے،اپنے جانور کو اس مال سے چارہ دے سکتا ہے مگر ذخیرہ کرکے اپنے گھر میں نہیں لاسکتا،یوں ہی جنگ کے ہتھیار استعمال کرسکتا ہے مگر وہ بعد استعمال غنیمت میں واپس کرنے ہوں گے،یوں ہی ٹھنڈے گرم کپڑے ضرورۃً پہن سکتا ہے مگر یہ بھی بعد میں غنیمت میں شامل کردینا ہوں گے،اگر یہ چیزیں استعمال سے خراب یا ہلاک ہوجائیں تو ان کا تاوان اس غازی پر نہیں،یوں ہی ضرورۃً کفار سے حاصل کیے ہوئے جانور ذبح کرکے کھا سکتا ہے مگر انکی کھال غنیمت میں شامل کرنا ہوگی۔اس کی تفصیل کتب فقہ میں اور مرقات میں دیکھو۔مگر یہ اجازت غازیوں کے لیے ہے جو تجار یا خدمت گار ان کے ساتھ گئے ہیں انہیں اس کی اجازت نہیں لیکن اگر وہ بھی استعمال کرلیں تو ان پر ضمان نہیں۔