| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامان پر ایک شخص تھا جسے کرکرہ کہا جاتا تھا ۱؎ وہ مرگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ آگ میں ہے تو لوگ تلاش کرنے لگے ایک کمبل پایا جس کی اس نے خیانت کرلی تھی ۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ مغرب میں ہے کہ ہر نفیس و قیمتی سامان کو ثقل کہا جاتا ہے۔کرکرہ یا تو دونوں کاف کے فتحہ سے ہے یا کسرہ سے یا پہلے کاف کے فتحہ سے دوسرے کے کسرہ سے۔(مرقات و اشعہ) ۲؎ یہ غلول کیا ہوا کمبل اس کے اس عذاب کا سبب بن گیا۔اس کی تحقیق ابھی ہوچکی کہ یہ عمل ان صحابی کی عدالت کے خلاف نہیں۔تمام صحابہ عادل ہیں معصوم یا محفوظ نہیں۔حضور کی نگاہ عالی کے قربان کہ اس جہان میں بیٹھ کر اس جہان کی خبر دے رہے ہیں۔