Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
889 - 1040
حدیث نمبر889
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک دن ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ہوئے تو خیانت کا ذکر فرمایا ۱؎ تو اسے اور اس کے معاملہ کو بڑا گناہ بتایا پھر فرمایا کہ میں تم میں سےکسی کو نہ پاؤں کہ قیامت کے دن یوں آئے کہ اس کی گردن پر اونٹ ہو بلبلاتا،عرض کرے یارسول اﷲ میری مدد فرماؤ ۲؎ میں کہہ دوں کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں میں تجھے تبلیغ کرچکا۳؎ میں تم میں سے کسی کو یوں نہ پاؤں کہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہو ہنہناتا ۴؎ پھر کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میری مدد فرماؤ میں کہہ دوں کہ تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں میں تجھ کو تبلیغ کرچکا ۵؎ میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں یوں کہ وہ قیامت میں اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر بکری ہو جس کی ممیاہٹ ہو ۶؎ عرض کرے یا رسول اﷲ میری مدد فرماؤ میں فرما دوں کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں میں تو تجھے تبلیغ کرچکا میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر غلام ہوں جس کی چیخ ہو ۷؎ کہے یارسول اﷲ میری مدد فرمایئے تو میں کہہ دوں کہ میں تیرے لیےکسی چیز کا مالک نہیں میں تم کو تبلیغ کرچکا ہوں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر کپڑے ہوں  چر چر کرتے ۸؎ تو وہ کہے یارسول اﷲ میری مددکرو میں کہہ دوں میں تیرے لے کسی چیز کا مالک نہیں میں تجھے تبلیغ کرچکا اور میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ قیامت کے دن اس طرح آوے کہ اس کی گردن پر سونا چاندی ہو ۹؎ وہ کہے یارسول اﷲ میری مدد فرماؤ میں کہہ دوں کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے تبلیغ کر چکا۔(مسلم،بخاری) اور یہ لفظ مسلم کے ہیں وہ بہت مکمل ہیں۔
شرح
۱؎  غلول مال غنیمت میں خیانت کرنے کو کہتے ہیں یہاں تو یہ ہی مراد ہے یا مطلقًا ہر خیانت،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔واﷲ اعلم!

۲؎  اس طرح کہ میری شفاعت فرماکر عذاب الٰہی سے بچائیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اﷲ کے محبوبوں سے مددمانگنا انہیں مدد کے لیے پکارنا جائز ہے،قیامت میں سب سے پہلے یہ ہی استعانت کا کام ہوگا دوسرے کام بعد میں۔لہذا آج بھی یہ کہنا کہ یارسول اﷲ اغثنی بالکل درست ہے آج حضور سے مدد مانگو تاکہ کل قیامت میں یہ استمداد کام آئے۔

۳؎ اگر یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو خیانت حلال جان کر کریں وہ تو کافر ہوچکے اور کافر کے لیے شفاعت نہیں اور اگر مسلمان فاسق مراد ہیں جو یہ حرکات حرام سمجھتے ہوئے کریں تو یہ فرمان دھمکانے ڈرانے کے لیے ہے ورنہ حضور کی شفاعت بڑے سے بڑے گنہگار مسلمانوں کو نصیب ہوگی۔فرماتے ہیں شفاعتی لا ھل الکبائر من امتی اور فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خاص دعا قیامت میں شفاعت کرنے کے لیے چھپا رکھی ہے اور وہ دعا ہر مسلمان کو پہنچے جو ایمان پر مرے۔

۴؎ اس طرح کہ اس نے غنیمت کے مال سے گھوڑے کی خیانت کی وہ گھوڑا قیامت میں اس کی گردن پر سوار ہوا جیسے بے زکوۃ والا مال اس پر سوار ہوگا۔

۵؎ یعنی دنیا میں ہم تم سب سے فرماچکے تھے کہ خیانت و غلول کرنا سخت جرم ہے یہ حق العباد ہے جو توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتا،تو نے ہمارے فرمان پر عمل کیوں نہ کیا خیانت کیوں کی اب میرے پاس کیوں اور کس منہ سے آیا۔ابھی ہم عرض کرچکے کہ یہ فرمان عالی ڈرانے دھمکانے کے لیے ہے مگر انجام یہ ہوگا۔شعر

دیکھی جو بے کسی تو انہیں رحم آ گیا	گھبرا کے ہو گئے وہ گنہگار کی طرف

۶؎  ثغاءٌ بکری کی آواز کو کہتے ہیں جس کا ترجمہ اردو میں ہے ممیانا۔یہ بکری و گھوڑے وغیرہ جانور ہیں جنہیں اس شخص نے خیانۃً لے لیا تھا ان کی آوازیں اس شخص کو بدنام و رسوا کرنے کے لیے ہوں گی۔ہم نے عرض کیا ہے کہ مسلمانوں کے چھپے گناہ قیامت میں چھپائے جائیں گے مگر علانیہ گناہ وہاں ظاہر کردیئے جائیں گے،یہ خیانت و غلول آخر کار ظاہر ہوجاتے ہیں اس لیے ان کا وہاں اعلان فرمادیا گیا۔

 ۷؎ نفس سے مراد وہ لونڈی غلام ہیں جنہیں اس نے خیانت کے طور پر لے لیا تھا اس خائن کی گردن پر سوار شور مچاتے ہوں گے۔خیال رہے کہ قیامت میں نیک اعمال انسان کی سواری بنیں گے اور برے اعمال انسان پر سوار ہوں گے جیسے یہاں تھوڑی غذ ا پر گویا انسان سوار ہوتا ہے اور بہت غذا انسان پر سوار ہوتی ہے جسے وہ اٹھائے پھرتا ہے لہذا حدیث بالکل ظاہر پر ہے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔

۸؎  رقاع جمع ہے رقعۃ کی بمعنی کپڑے۔خفق کہتے ہیں چرچرانے کو یہاں رقعہ سے مراد یا تو کپڑے کے تھان ہیں جنہیں اس نے خیانۃً لے لیا یا وہ کاغذ کے دفتر ہیں جن میں غازیوں مجاہدوں کے نام مع ان کے غنیمت کے حصوں کے لکھے تھے اس نے وہ گم کردیئے تاکہ نئے کاغز بنیں جن میں یہ کمی بیشی کر کے آپ خود بہت زیادہ لے لے،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔(اشعہ) 

۹؎ صامت بنا ہے صمت سے بمعنی خاموشی،صامت بمعنی خاموشی اس سے مراد ہوتا ہے سونا چاندی وغیرہ مال کہ جانور تو آواز رکھتے ہیں یہ بولتے نہیں نہ آواز دیں۔اور اس سے وہ سونا چاندی مراد ہے جو اس نے خیانۃً لی تھیں وہ بھی خائن کے سر پر سوار ہوں گی۔
Flag Counter