۱؎ یعنی کفار کی جو بستی بغیر جہاد کے صرف صلح سے قبضہ میں آجائے تو وہ غنیمت نہ ہوگی بلکہ فئ ہوگی جس میں سب مسلمان مجاہدین یا دوسرے برابر کے حق دار ہوں گے کہ فئ کا حکم یہ ہی ہوتا ہے۔اس فئ میں خمس بھی نہیں لیا جاتا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔امام شافعی کے ہاں فئ میں سے بھی خمس لیا جائے گا،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔
۲؎ یعنی جو علاقہ جہادکر کے تم حاصل کرو وہ غنیمت ہوگا۔اس میں خمس نکال کر باقی چار حصے غازیوں پرتقسیم ہوں گے۔خیال رہے کہ جو شہر جنگ سے فتح ہو اس میں سلطان اسلام کو اختیار ہے خواہ وہ زمین وہاں کے باشندے اموال خمس نکال کر باقی چار حصے نمازیوں میں تقسیم کردے جیسا کہ حضور انور نے خیبر میں کیا خواہ وہ زمین خود وہاں کے کفار باشندوں کے حوالہ کرکے ان پر جزیہ قائم کردے اور زمین پر عشر لگا دے اس لیے حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کا مجھے خیال نہ ہوتا تو جو علاقہ فتح ہوتا وہ میں بعد خمس غازیوں میں بانٹ دیتا جیساکہ حضور انور نے خیبر تقسیم فرمادیا۔حضور انور نے نصف خیبر تو اپنی ضروریات کے لیے اور نصف خیبر کے چھتیس حصے کیے ایک حصہ سو غازیوں کو دیا اور حضرت عمر نے عراق جہاد سے فتح فرمایا مگر اسے غازیوں میں تقسیم نہ کیا اور اس آیت سے دلیل پکڑی "مَاۤ اَفَآءَ اللہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنْ اَہۡلِ الْقُرٰی وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰی"الی قولہ "وَ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ"الخ تمام صحابہ نے آپ کا یہ فیصلہ مانا سوا سلمان فارسی و بلال کے پھر بعد میں یہ دونوں صاحب بھی مان گئے، یہ پوری بحث مرقات میں دیکھو۔