Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
886 - 1040
حدیث نمبر886
روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں اور عثمان ابن عفان نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے عرض کیا کہ حضور آپ نے خیبر کے خمس سے بنی مطلب کو توڑ دیا ۲؎ اور ہم کو چھوڑ دیا حالانکہ ہم لوگ آپ سے ایک ہی درجہ (رشتہ) میں ہیں تو فرمایا کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی شے ہیں ۳؎ حضرت جبیر کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی عبدشمس اور بنی نوفل کو کچھ نہ دیا ۴؎(بخاری)
شرح
۱؎ آپ جبیر ابن مطعم ابن عدی قرشی نوفل ہیں،کنیت ابو محمد ہے،فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے،مدینہ پاک میں رہے،     ۵۴؁  چون ہجری میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی ہم اور بنی مطلب دونوں عبد مناف کی اولاد ہیں تو ہمارا ان  کا رشتہ آپ سے یکساں ہوا۔خیال رہے کہ عبد مناف حضور کے چوتھے دادا ہیں،محمد ابن عبداﷲ ابن عبدالمطلب ابن ہاشم  ابن عبد مناف اور ان عبد مناف کے بیٹے ہاشم مطلب نوفل عبدشمس ہیں،جبیر نوفل کی اولاد ہیں اور عثمان غنی عبدشمس کی اولاد اور حضور ہاشم کی اولاد سے جبیر ابن مطعم ابن عدی ابن نوفل ابن عبد مناف ہیں اور عثمان ابن عفان ابن ابوالعاص ابن امیہ ابن عبدشمس ابن مناف ہیں۔

۳؎ خیال رہے کہ یہ مطلب مناف کے بیٹے ہیں یہ اور ہیں اور عبدالمطلب جو حضور کے دادا ہیں وہ اور ہیں۔مقصد یہ ہے کہ واقعی نسبی لحاظ سے یہ چاروں خاندان یکساں ہیں یعنی بنی ہاشم و بنی مطلب،بنی نوفل بنی عبدالشمس سب ہی عبد مناف کی اولاد ہیں مگر تحالف تعاون کے لحاظ سے بنی ہاشم اور بنی مطلب تو ایک ہیں وہ ہی خمس کے حصہ کے مستحق مگر بنی نوفل اور بنی عبدالشمس الگ ہیں وہ اس کے مستحق نہیں کیونکہ ہجرت سے پہلے بنی نوفل اور بنی عبدشمس دوسرے مشرکین مکہ سے مل کر مسلمانوں کے بائیکاٹ میں شریک ہو گئے اور بنی مطلب و بنی ہاشم کا بائیکاٹ کردیا۔اس تعاون کی وجہ سے یہ دونوں ایک ہیں اور یہ دونوں ہی خمس کے مستحق۔

۴؎ خیال رہے کہ قرآن مجید میں خمس کے حقدار اﷲ تعالٰی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم،حضور کے قرابت دار یتیم، مساکین اور مسافروں کو قرار دیا گیا کہ ارشاد ہوا"وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی"الخ اﷲ کا ذکر برکت کے لیے ہے کل مصرف پانچ رہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس خمس کے پھر پانچ حصے کرتے تھے:ایک حصہ یعنی غنیمت کا پچیسواں حصہ اپنے پر خرچ فرماتے تھے،ایک حصہ بنی ہاشم بنی مطلب کے عزیزوں پر باقی تین حصے یتیموں،مسکینوں،۔مسافروں پر حضور کی وفات کے بعد حضور کا اپنا حصہ تو ختم ہوگیا وہ حضور کی ازواج پاک یا اولاد پاک کو نہ دیا گیا جیسے کہ حضور انور کبھی غنیمت سے کوئی خاص چیز لے لیتے تھے جسے صفی کہا جاتا تھا۔چنانچہ حضور نے عتبہ ابن حجاج کافر کی تلوار ذوالفقار خود رکھی اور خیبر کی غنیمت میں سے صفیہ بنت حیی ابن اخطب کو خود قبول فرمایا مگر حضور کی وفات سے یہ صفی بند ہوگیا،ایسے ہی آپ کا خمس بھی ختم ہوگیا،اسی طرح حضور کے پردہ فرمانے سے ذی قربی یعنی قرابت داروں کا حصہ بھی ختم ہوگیا۔چنانچہ اس خمس کے حصے بجائے پانچ کے تین کیے جائیں گے جو یتیموں،مسکینوں،مسافروں پر صرف ہوں گے،ہاں حضور کے عزیز و اہل قرابت، یتیموں،مسکینوں،مسافروں کو مقدم رکھا جائے گا کہ پہلے انہیں بعد میں دوسروں کو عطا ہوگا کیونکہ دوسرے فقراء تو زکوۃ بھی لے سکتے ہیں مگر یہ حضرات زکوۃ نہیں لے سکتے یہ ہے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مذہب مگر امام شافعی کے ہاں اب بھی خمس کے پانچ حصے ہوں گے،حضور کا حصہ سلطان اسلام کو ملے گا اور حضور کے قربیٰ کا حصہ بدستور ویسے ہی جاری ہوگا جو سادات کو دیا جائے گا خواہ وہ فقیر ہو یا امیر مگر قول امام اعظم بہت قوی ہے کیونکہ حضرات خلفاء راشدین نے خمس کے تین حصے ہی کیے نہ حضور کا حصہ اور نہ اہل قرابت کا حصہ کسی نے نہ کہا اور کسی صحابی نے اس پر اعتراض نہ کیا۔یہ بھی خیال رہے کہ یہ تین حصے خواہ تینوں قسموں کو دیئے جائیں یا ایک ہی کو ہر طرح جائز ہے جیسے زکوۃ کے مصارف کا حال ہے۔کسی شخص نے ابو جعفر محمد ابن علی سے پوچھا کہ حضرت علی نے اپنی خلافت میں ذی قربی کا حصہ خمس سے نکالا یا انہیں تو آپ نے فرمایا نہیں کیونکہ حضرت علی صدیق اکبر کی راہ ہی چلے۔(طحاوی،مرقات) بہرحال اس کے تین حصے کرنے پر خلفاءراشدین کا عمل صحابہ کا اجماع ہوا۔اس کی نفیس تحقیق فتح القدیر میں دیکھو یا یہاں ہی مرقات میں مطالعہ فرماؤ۔
Flag Counter