Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
885 - 1040
حدیث نمبر885
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میرا گھوڑا بھاگ گیا تو اسے دشمن نے پکڑ لیا پھر ان پر مسلمان غالب آگئے تو وہ گھوڑا حضور ہی کے زمانہ میں انہیں لوٹا دیا گیا ۱؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ان کا غلام بھاگ کر روم سے مل گیا پھر ان پر مسلمان غالب آ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد خالد ابن ولید نے ان پر لوٹا دیا ۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ یعنی بحالت جنگ میرا گھوڑا چھوٹ کر کفار کی طرف چلا گیا انہوں نے پکڑ لیا پھر جنگ کے نتیجہ کے طور پر مسلمان کفار پر غالب آگئے ان کا مال غنیمت ہمارے ہاتھ لگا،اس مال میں یہ گھوڑا بھی تھا تو حضور انور نے اسے غنیمت بنا کر تقسیم میں داخل نہ فرمایا بلکہ مجھے دیدیا۔اس کی وجہ ظاہر ہے کہ کفار اس گھوڑے کو ابھی اپنے ملک میں لے گئے تھے،نیز تقسیم غنیمت سے پہلے یہ گھوڑا حضرت ابن عمر نے پہچان لیا۔ایسا مال احناف کے نزدیک بھی مالک کو ملتا ہے غنیمت میں نہیں۔اختلاف اس مال میں ہے جو مسلمان کا تھا کفار کے ملک میں رہ گیا وہ چھین کر اپنے ملک میں لے گئے اور پھر غنیمت میں آیا جس کو تقسیم کردیا گیا پھر مالک نے پہنچانا۔

۲؎ یہ غلام مسلمان تھا اور بھاگ کر دارحرب یعنی روم میں پہنچ گیا کفار نے پکڑ لیا ایسا غلام کفار کی ملک نہیں بن جاتا۔جب غنیمت میں آوے گا مالک کو ملے گا،ہاں جو غلام مرتد ہوکر دار حرب میں پہنچ جائے کفار اس پر قبضہ کرلیں پھر غنیمت میں آوے تو یہ مال غنیمت ہوکر تقسیم ہوگا مالک کو واپس نہ ملے گا لہذا یہ حدیث بالکل ظاہر ہے۔خیال رہے کہ جو مسلمان یا مال دارحرب میں رہ جائے یا کفار جنگ میں چھین کر اپنے ملک میں لے جاویں وہ مال احناف کے ہاں کفار کی ملک بن جاتا ہے مسلمان کی ملک سے نکل جاتا ہے،لہذا اگر کوئی مسلمان یہ مال کفار سے خرید کر ہمارے ملک میں آئے تو پہلا مالک اس سے نہیں لے سکتا یہ خریدار ہی مالک ہوگا،یوں ہی اگر وہ مال غنیمت میں آجاوے تو تقسیم ہوگا اس مالک کو نہ ملے گا یہ ہے مذہب احناف کا مگر امام شافعی کے ہاں وہ مال مسلمان مالک ہی کا رہے گا اُسے ہی واپس دیا جائے گا۔وہ اس حدیث سے بھی دلیل پکڑتے ہیں اور اس واقعہ سے بھی کہ ایک بار حضور کی اونٹنی عضباء کو کفار مدینہ لے گئے اور ایک مؤمنہ عورت کو بھی،ایک شب موقعہ پا کر یہ بی بی اسی اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ پہنچ گئی اور نذر مانی کہ مولیٰ اگر میں بخیریت مدینہ پہنچ جاؤں تو اس اونٹنی کو ذبح کرکے تیرے نام پر خیرات کردوں گی،جب حضور انور سے یہ واقعہ عرض کیا تو فرمایا کہ غیر کے ملک میں نذر جائز نہیں اور وہ اونٹنی حضور نے خود لے لی کہ آپ کی تھی مگر امام اعظم فرماتے ہیں کہ یہ اونٹنی ابھی دارالحرب تک پہنچی نہ تھی راستہ سے ہی بی بی صاحبہ لے کر آگئیں اور وہ غلام مسلمان تھا لہذا یہ دونوں کفار کے ملک میں نہ آئے۔امام اعظم کے دلائل حسب ذیل ہیں:(۱)قرآن کریم نے ان مہاجرین کو جو مکہ معظمہ میں اپنا بہت مال جائیداد چھوڑ آئے تھے فقرا فرمایا کہ فرمایا: "لِلْفُقَرَآءِ الْمُہٰجِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اُخْرِجُوۡا مِنۡ دِیٰرِہِمْ"اور فقیر وہ ہوتا ہے جو مال کا مالک نہ ہو کہ وہ چھوڑنے کے بعد اپنے متروکہ مالوں کے مالک نہ رہے(۲) حضور انور نے فتح مکہ فرماکر مہاجرین کے مکانات جائیدادیں انہیں واپس نہ فرمائیں حتی کہ کفار نے جو مال ان میں سے فروخت کردیئے تھے ان کی بیع جائز رکھی(۳) عقیل ابن ابو طالب نے جو مکانات فروخت کردیئے ان کی بیع جائز رکھی کہ فتح مکہ کے دن فرمایا ہم کہاں ٹھہریں عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان باقی نہ چھوڑا حالانکہ ان مکانات کے مالک حضرت علی و جعفر بھی تھے(۴) ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں تمیم ابن طرفہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے کسی کے پاس اپنی اونٹنی پائی وہ دونوں حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے مالک نے اپنی ملکیت پرگواہی قائم کردی،مدعیٰ علیہ نے اس پر گواہی قائم کردی کہ میں نے کفار سے یہ خریدی ہے تو حضور نے پہلے مالک سے فرمایا کہ تم خرید سکتے ہو ایسے ہی نہیں لے سکتے(۵) بیہقی و دار قطنی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی مسلمان کا جو مال کفار اپنے ملک میں لے جاویں پھر مسلمان ان سے غنیمت میں وہ مال لے لیں تو اگر تقسیم غنیمت سے پہلے مالک نے لے لیا تو اس کا ہے بعد تقسیم غنیمت جس کو مل جائے اس کا ہے(۶) دار قطنی حضرت ابن عمر سے یہ روایت کی(۷) طبرانی نے حضرت ابن عمر سے مرفوعًا یہ ہی روایت کی(۸)طحاوی نے بروایت قبیصہ ابن ذویب حضرت عمر سے یہ ہی روایت کی(۹)طحاوی نے حضرت زید ابن ثابت سے یہ ہی روایت کی(۱۰)طحاوی نے حضرت علی سے روایت کی تو آپ نے فرمایا کہ مسلمان کا مال جو کوئی دارالحرب میں کسی کافر سے خریدے تو بیع درست ہے غرضیکہ مذہب حنفی بہت ہی قوی ہے۔
Flag Counter