۱؎ یعنی ایک جہاد میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے غنیمت سے خمس لیا، اس خمس میں سے ہم لوگوں کو ایک ایک اونٹ زائد دیا بطور نفل۔خیال رہے کہ آج کل فوجی سپاہیوں کی تنخواہ ہوتی ہے غنیمت میں حصہ بالکل نہیں ملتا مگر اس زمانہ میں تنخواہ نہ ہوتی تھی غنیمت کے پانچ حصے کرکے ایک حصہ اﷲ رسول کے نام کا لے لیا جاتا تھا اسے خمس کہتے تھے اور باقی چار حصے غازیوں میں تقسیم ہوجاتے تھے یہاں اس کا ذکر ہے یعنی حضور انور نے یہ نفل ہم لوگوں کو خمس میں سے دیا غازیوں کے حصے سے نہ دیا۔
۲؎ شارف کی یہ تفسیرکسی اور راوی نے کی ہے حضرت ابن عمر کی نہیں۔(مرقات) نفل کے معنی ابھی ذکر کیے گئے،اس سے ہے یہ نفلی نماز و روزہ یعنی فرض سے زیادہ۔