| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کچھ زیادہ عطا فرماتے تھے بعض بھیجے ہوئے لشکروں کو ان کی خاص ذات کے لیے سوا لشکر کے عام حصے کے ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ نفل کے معنی ہیں زیادتی اس سے ہے انفال اور نافلہ،اصطلاح میں نفل وہ مال کہلاتا ہے جوکسی غازی کو اس کے حصے سے زیادہ دیا جائے یا کسی بہادری کے صلہ میں یا جہاد کی رغبت دینے کے لیے۔حدیث کا مقصد یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کبھی بعض غازیوں کو ان کے عام حصے کے علاوہ جس کے وہ مستحق ہوتے تھے کچھ زیادہ بھی عطا فرماتے تھے۔اس زیادتی میں بہت حکمتیں ہوتی تھیں۔