| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سواری اپنے غلام رباح کے ساتھ بھیجی اور میں ان کے ساتھ تھا۲؎ تو جب ہم نے سویرا کیا تو اچانک عبدالرحمان فزاری نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی سواری پر حملہ کردیا ۳؎ تو میں ایک ٹیلہ پر کھڑا ہوا ۴؎ پھر مدینہ کی طرف منہ کیا اور ندا دی یا صباحاہ پھر میں اس قوم کے پیچھے چل پڑا ان پر تیر اندازی کرتا تھا ۵؎ اور یہ گیت شجاعت کہتا تھا ۶؎ کہ میں اکوع کا بیٹا ہوں،آج دودھ چھوٹنے کا دن ہے۷؎ تو میں تیر مارتا رہا ان کے جانور کاٹتا رہا ۸؎ حتی کہ اﷲ نے حضور کی سواریوں میں سے کوئی اونٹ پیدا نہ فرمایا تھا مگر میں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھےکر لیا ۹؎ پھر میں تیر مارتا ہوا ان کے پیچھے چلا حتی کہ وہ لوگ تیس چادروں سے زیادہ اور تیس نیزے پھینک گئے ۱۰؎ ہلکا ہونے کے لیے اور وہ نہیں پھینکتے تھے ۱۱؎ کوئی چیز مگر میں اس پر پتھروں کی نشانیاں رکھ دیتا تھا ۱۲؎ جسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ پہچان لیں۱۳؎حتی کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی سوار فوج دیکھ لی اور ابو قتادہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار عبدالرحمن پر جا پڑے اسے قتل کردیا۱۴؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آج ہمارے بہترین سواروں میں بہترین سوار ابوقتادہ ہیں اورپیادوں میں بہترین ۱۵؎ سلمہ ہیں پھر مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو حصے عطا فرمائے ایک حصہ سوار کا اور ایک حصہ پیادے کا یہ دونوں حصے میرے لیے جمع فرمادیئے ۱۶؎ پھر مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پیچھے عضباء پر سوار فرمایا ۱۷؎ مدینہ منورہ لوٹتے ہوئے ۱۸؎ (مسلم)
شرح
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،بہادری میں بے مثال تھے،اکیلے پیدل بہت سے سوار کفار سے لڑتے تھے،کنیت آپ کی ابو مسلم تھی،مدنی ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک رہے،اسی۸۰ سال عمر ہوئی، ۷۴ چوہتّر ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔( اکمال،اشعہ وغیرہ) ۲؎ ظہر اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کی پشت سواری کے کام آتی ہو یعنی سواری کا اونٹ۔رباح ر کے فتحہ سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے غلام ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے کچھ لائق سواری اونٹ مدینہ منورہ سے کسی جگہ بھیجے ان کی حفاظت کے لیے میں اور رباح بھیجے گئے۔ ۳؎ عبدالرحمن فزاری عرب کا مشہور کافر ڈاکو تھا جس کے ساتھ اس کے ساتھیوں کی جماعت تھی جیسے اب بھی مشہو ر ڈاکو جتھہ والے ہوتے ہیں،اس ڈاکو نے اس موقعہ پر صرف دو صحابیوں کو دیکھ کر حضور انور کے اونٹ لوٹ لیے ہانک لے گیا،یہ واقعہ ۶ھ میں ہوا اس کا نام غزوہ ذی قرد ہے،قرد مدینہ کے پاس ایک جگہ ہے۔(مرقات) ۴؎ اکمہ وہ بلند جگہ جو پہاڑ سے چھوٹی ہو جسے اردو میں ٹیلہ کہا جاتا ہے۔ ۵؎ عرب میں خطرہ شدیدہ کا اعلان کرنے کے لیے یا صباح کا لفظ پکارا جاتا تھا گویا یہ لفظ خطرہ کا الارم تھا۔عمومًا دشمن کا حملہ بوقت صبح ہوتا تھا اس لیے یہ لفظ پکارا جاتا تھا یعنی ہائے اے لوگو صبح کے وقت کا انتظار کرلو صبح کو تم پر حملہ ہونے والا ہے،یہ بھی حضرت سلمہ ابن اکوع کی کرامت تھی کہ ایک ٹیلہ پر کھڑے ہوکر اپنی پکار تمام مدینہ میں پہنچادی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ بنا کر جو آواز دی کہ اے اﷲ کے بندو اﷲ کے گھر کی طرف آؤ وہ تمام عالم میں پہنچ گئی تاقیامت آنے والی روحوں نے سن لی یہ معجزہ حضرت ابراہیم کا تھا۔ ۶؎ یہ ہے حضرت سلمہ کی بہادری کہ مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا انتظارنہ کیا صرف اطلاع دےکر اکیلے ہی پوری جماعت کے پیچھے پیدل لگ گئے عربی میں رجز ان اشعار کو کہا جاتا ہے جو جنگ کے وقت بہادر اپنی بہادری کے اظہار کے لیے پڑھا کرتے ہیں کفار کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے۔ ۷؎ رضع ر کے پیش ض کے شد و زبر سے یا تو راضع بمعنی خبیث کی جمع ہے یا رضیع بمعنی ماں کا دودھ چھوڑا ہوا، بچہ کی جمع ہے یعنی آج کمینوں کی سزا کا دن ہے یا آج تم شیرخوار کمزور بچوں کی ہلاکت کا دن ہے یا تم کو رضیع بنادینے کا دن ہے اور بھی اس کے بہت معنی کیے گئے ہیں۔ ۸؎ اعقر بنا ہے عقر سے بمعنی پاؤں یا کونچیں کاٹنا۔اس سے مراد ہے جانوروں کا ہلاک کردینا یعنی ان ڈاکوؤں کو بھی مارتا رہا اور تاک تاک کر ان کے جانوروں کو بھی ہلاک کرتا رہا جس سے وہ لوگ میری طرح پیادے ہوتے رہے۔ ۹؎ یعنی مجھ اکیلے نے حضور انور کے سارے اونٹ ان ڈاکوؤں سے چھین کر اپنے قبضہ میں کرلیے کہ انہیں اپنے پیچھے کرلیا میں ان کے آگے ہو گیا اور ڈاکوؤں کے پیچھے دوڑتا رہا ۔ ۱۰؎ عربی میں مخطط اور حاشیہ والی چادر کو بھی بردہ کہتے ہیں اور مربع کمبل کو بھی جو بدوی لوگ پہنتے ہیں یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں ۱۱؎ یعنی ان کافر ڈاکوؤں کو اپنی چادریں کمبل ، ہتھیار بھاگڑ میں سنبھالنا مشکل ہوگئے تو انہوں نے ان چیزوں کو وبال سمجھ کر پھینک دینے میں اپنی نجات جانی تاکہ ان کے بوجھ سے ہلکے ہوں اور بھاگنے میں آسانی پائیں،یہ ہے اس محمدی کچھار کے شیرکی دلیری رضی اللہ عنہ۔ ۱۲؎ یعنی میں نے ان میں سے کوئی چیز اٹھائی بھی نہیں تاکہ مجھے ان کے پیچھا کرنے میں آسان رہے اور بغیر علامت چھوڑی بھی نہیں تاکہ میرے پیچھے آنے والے صحابہ ان پر قبضہ کرلیں۔ ۱۳؎ عرب کا دستور کہ جب کوئی شخص کسی چیز پر علامت ڈال دیتا تھا تو اس کے پیچھے آنے والے ساتھی اسے اٹھالیتے تھے۔ ۱۴؎ یعنی حضرت ابو قتادہ میرے اس راستے سے کترا کر دوسری طرف سے ڈاکوؤں کے سردار عبدالرحمن فزاری تک پہنچ گئے اور اسے قتل کردیا،یہ ہے دشمن کو گھیرے میں لے لینا جو آج بڑا کما ل سمجھا جاتا ہے،یہ صحابہ کرام کا معمولی عمل تھا۔ ۱۵؎ یعنی اس غزوہ ذی قرد میں حضرت سلمہ نے پیادہ فوج کا کمال دکھایا اور ابوقتادہ نے سوار فوج کا کمال دکھایا۔دونوں اپنے اپنے فن میں بڑے ہی کامل ظاہر ہوئے۔فرسان جمع ہے فارس کی بمعنی گھوڑا سوار۔رجال جیم کی شد سے جمع ہے راجل کی بمعنی پیدل جیسے سائر کی جمع سیارہ اور ناظر کی جمع نظارہ ۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: (۱) جنگ کے وقت رجز پڑھنا سنت ہے(۲) دشمن کے جانور جنگ میں قتل کردینا جائز ہے جس سے ان کا زور ٹوٹے(۳)فخریہ طور پر یہ کہنا کہ فلاں کا بیٹا ہوں ایسے موقعہ پر جائز ہے(۴) کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنا جائز ہے جب کہ اس میں مصلحت ہو(۵) اپنے کو راہِ خدا میں خطرہ میں پھنسا دینا اعلیٰ درجہ کا جہاد ہے،دیکھو حضرت سلمہ نے اکیلے اتنے گروہ پر حمل کردیا حالانکہ آپ پیدل تھے(۶) ضرورت کے وقت امام سے بغیر اجازت لیے کفار پر حملہ کردینا بھی جائز ہے۔ ۱۶؎ یہ دو حصوں کا جمع فرمادینا بطور نفل تھا جو بہادری کے انعام میں دیا گیا۔سوار کے حصے سے مراد یا تو دوہرا حصہ ہے جیسا کہ احناف کہتے ہیں یا تہرا حصہ جیساکہ شوافع کا قول ہے یعنی مجھے تین یا چار حصے دیئے باقی حصے دوسرے ساتھ آنے والے صحابہ کو عطا فرمائے کیونکہ جو بارادۂ جہاد میں پہنچ جائے اگرچہ وہ جہاد نہ بھی کرے تب بھی غنیمت میں حصہ لے گا۔ ۱۷؎ یہ بہادری و جرات کا تمغہ عطا ہوا یعنی اپنا قرب جو تمام انعامات سے افضل تھا۔ ۱۸؎ عضبا مؤنث ہے اعضب کا بمعنی کان کٹا جانور تو عضباء کے معنی ہوئے کان کٹی اونٹنی حضور کی یہ اونٹنی پیدائشی طورپر کان کٹی تھی بعد میں کان کاٹے نہ گئے تھے۔(اشعہ)اس اونٹنی کا نام قصواء بھی تھا۔اس لحاظ سے یعنی حضور انور نے مجھے اس بہادری کے صلہ میں یہ تمغہ عطا فرمایا کہ اپنا ردیف بناکر مجھے مدینہ منورہ تک لائے یہ حدیث بخاری و مسلم دونوں میں ہے۔(مرقات) مگر مشکوۃ کے بعض نسخوں میں بخاری کا حوالہ ہے بعض میں مسلم کا۔خیال رہے کہ راجعین تثنیہ بھی ہوسکتا ہے اور جمع بھی دونوں درست ہیں۔