Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
881 - 1040
حدیث نمبر881
روایت ہے حضرت یزید ابن ہرمز سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نجدہ حروری نے ۲؎ حضرت ابن عباس کو خط لکھا وہ آپ سے اس غلام و عورت کے متعلق پوچھتا تھا جو غنیمت میں حاضر ہوں کہ کیا انہیں حصہ دیاجائے تو  آپ نے  یزید سے فرمایا کہ اسے لکھ دو کہ ان کے لئے حصہ نہیں مگر یہ کہ کچھ دے دیاجائے ۳؎ اور ایک روایت میں ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے لکھا  کہ تو نےلکھ کر مجھے پوچھا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے ساتھ غزوہ فرماتے تھے اور کہا ان کے لیے حصہ مقرر فرماتے تھے تو یقینًا حضور انور ان کے ساتھ غزوہ کرتے تھے یہ بیماریوں کا علاج کرتی تھیں اور غنیمت سے کچھ دے دی جاتی تھیں لیکن حصہ ان کے لئے مقرر نہ تھا  ۴؎ (مسلم)
شرح
۱؎ آپ ہمدانی ہیں،بنی لیث کے غلام ہیں،تابعی ہیں،ثقہ ہیں،اہل مدینہ سے ہیں۔

۲؎ نجدہ خوارج سے تھا،حرورہ ایک بستی کا نام ہے قریب کوفہ،اس بستی میں خوارج کا اجتماع تھا اس لیے خوارج کو حروری کہا جاتا ہے جیسے ہمارے ہاں قادیانی ایک مرتد فرقہ کالقب ہے،قادیان بستی کی طرف نسبت ہے۔

۳؎ یعنی اگر غلام جہاد کرے یا عورت زخمی غازیوں کی مرہم پٹی کرے تو غنیمت سے کچھ دے دیا جائے گا جو مقررہ حصے سے کم ہوگا پورا حصہ نہ دیا جائے گا لیکن اگر غلام صرف مولیٰ کی خدمت کرے اور عورت صرف اپنے خاوند کا کام کرے تو انہیں کچھ نہ ملے گا کہ اس صورت میں یہ تاجر کی طرح ہیں جو جہاد میں دو کان لےکر جاوے۔(اشعہ و مرقات و لمعات)

۴؎ اکثر علماء کا یہ ہی قول ہے امام اعظم کا بھی یہ ہی مذہب ہے کہ عورت اور غلام کو غنیمت سے کچھ دے دیا جائے اور باقاعدہ پورا حصہ نہ دیا جائے بشرطیکہ غلام جنگ کرے مولیٰ کی اجازت سے یا بغیر اجازت اور عورت غازیوں کی خدمت کرے کہ عورت کی خدمت مثل جنگ کے ہے۔
Flag Counter