Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
880 - 1040
حدیث نمبر880
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مرد کو اور اس کے گھوڑے کو تین حصے دیئے ایک حصہ اسے اور دو حصے اس کے گھوڑے کو ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی ایک جہاد میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے پیدل غازی کو مال غنیمت سے ایک حصہ دیا اور سوار غازی کو تین حصے اس طرح ایک حصہ غازی کا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے۔اس حدیث کی بنا پر جمہور علماء نے فرمایا کہ سوار غازی کو تین حصے ملیں گے یعنی گھوڑے کے دو،غازی کا ایک مگر حضرت علی،ابوموسیٰ اشعری،امام اعظم ابوحنیفہ کا فرمان ہے کہ سوار غازی کو دو حصے ملیں گے ایک گھوڑے کا،ایک غازی کا۔اس حدیث میں قانون کا ذکر نہیں بلکہ ایک خاص موقعہ کا ذکر ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے سوار کو تین حصے دیئے تھے اس طرح کہ گھوڑے کا حصہ ایک اور ایک حصہ بطور نفل گھوڑے کو زائد دیا۔امام ابوحنیفہ کی دلائل حسب ذیل ہیں:(۱) مسلم شریف میں بروایت حضرت ابن عمر ہے کہ حضور نے قسم النفل للفارس سہمین والراجل سہما حضور نے نفل کی تقسیم اس طرح فرمائی کہ گھوڑے سوار کے دو حصے پیدل کا ایک(۲) معجم طبرانی نے بروایت مقداد ابن عمرو روایت کی کہ میں جنگ بدر میں اپنے گھوڑے سبحہ پر سوار ہو کر شریک ہوا تو حضور نے مجھے دو حصے دیئے ایک میرا ایک میرے گھوڑے کا(۳) ابن مردویہ نے بروایت عروہ عن عائشہ الصدیقہ روایت کی کہ غزوہ بنی مصطلق میں حضور نے پیدل غازی کو ایک حصہ دیا سوار کو دو(۴) ابن ابی شیبہ نے بروایت حضرت ابن عمر روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سوار غازی کو دو حصے دیئے پیادہ کو ایک(۵) دارقطنی نے انہی ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ ہی روایت کی،دیکھو کتاب موتلف للدارقطنی۔ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سوار غازی کے دو حصے ہیں نہ کہ تین۔جن روایات میں تین حصوں کا ذکر ہے وہاں اتفاقی واقعہ مذکور ہے کہ گھوڑے کو بطور نفل ایک حصہ زیادہ دیا گیا اس لیے ان احادیث میں ماضی مطلق فرمایا کہا کان یعطی من ہے اس صورت میں احادیث جمع ہوجائیں گی تعارض نہ ہوگا۔اور ان بزرگوں کے قول پر دو حصوں والی روایات چھوڑنی پڑیں گی۔بہرحال مذہب امام اعظم بہت قوی ہے۔دو حصوں کی تائید اس روایت سے بھی ہورہی ہے جو مشکوۃ شریف کی دوسری فصل میں حضرت مجع سے آرہی ہے،ابھی اگلی حدیث میں آرہا ہے کہ غزوہ ذی قرد میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت سلمہ ابن اکوع کو پیدل اور سوار دونوں کے حصے دیئے تو ایک غازی کو دونوں حصے جمع فرمادینا  خصوصیت ہے قانون نہیں ایسے ہی یہ ہے۔
Flag Counter