| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حنین کے سال گئے ۱؎ تو جب ہم ملے تو مسلمانوں میں بے چینی ہوگئی میں نے مشرکین کے ایک شخص کو دیکھا ۲؎ کہ وہ مسلمانوں میں سے ایک مسلمان پر غالبا آگیا ۳؎ تو میں نے اس کے پیچھے سے اس کی گردن کی رگ پر تلوار ماری ۴؎ تو میں نے زرہ کاٹ دی وہ مجھ پر متوجہ ہوگیا مجھے خوب لپٹ گیا میں نے اس سے موت کی بو پالی ۵؎ پھر اسے موت نے پالیا تب اس نے مجھے چھوڑ دیا میں حضرت عمر ابن خطاب سے ملا میں نے کہا لوگوں کا کیا حال ہوگیا ہے فرمایا اﷲ کا حکم ۶؎ پھر غازی لوٹ پڑے ۷؎ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف فرما ہوئے تو فرمایا کہ جس نے کسی مقتول کو قتل کیا ہو جس کی گواہی اس کے پاس ہو تو اس کا سامان قاتل ہی کا ہے ۸؎ تو میں بولا کہ میری گواہی کون دے گا پھر میں بیٹھ گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی طرح فرمایا میں نے پھر کہا کہ میری گواہی کون دیتا ہے پھر میں بیٹھ گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی طرح فرمایا میں پھر کھڑا ہوا ۹؎ تو فرمایا اے ابو قتادہ تمہارا کیا حال ہے چنانچہ میں نے حضور کو خبر دی تو ایک شخص بولا حضور یہ سچے ہیں اور اس کافر کا سامان میرے پاس ہے حضور انہیں میرے متعلق راضی فرمائیں ۱۰؎ ابوبکر صدیق نے فرمایا اﷲ کی قسم تب تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم اﷲ کے شیروں میں سے ایک شیر کی طرف یہ قصد بھی نہ کریں گے کہ جو اﷲ رسول کی طرف جہاد کرے تجھے اس کا سامان دے دیں ۱۱؎ تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ سچے ہیں اسے سامان دے دو چنانچہ اس نے وہ مجھے دے دیا تو میں نے اس کا ایک باغ بنی سلمہ میں خریدا ۱۲؎ یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں جمع کیا۔(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ حضرت ابوقتادہ مشہور صحابی ہیں اور حنین مکہ معظمہ و طائف کے درمیان ایک جنگل ہے وہاں قبیلہ بنی ہوازن سے مسلمانوں کی مشہور جنگ ہوئی ہے فتح مکہ کے بعد۔فقیر نے اس جنگل کی زیارت کی ہے۔اس جنگ کا ذکر قرآن کریم میں صراحۃً ہوا ہے۔ ۲؎ جولۃ کے لغوی معنی ہیں بے قراری ،حرکت،آگے پیچھے دوڑنا۔راوی نے غزوہ حنین کی اول حالت کو مسلمانوں کی شکست نہ فرمایا کیونکہ حقیقۃً شکست نہ ہوئی تھی بلکہ ہوازن کی سخت تیر اندازی کی وجہ سے مسلمان پہلے کچھ گھبرا گئے تھے اور ان میں افراتفری مچ گئی تھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور حضور کے ساتھ مسلمانوں کی ایک جماعت اپنی جگہ سے قطعًا نہ ہلی تھی لہذا مسلمانوں کی یہ افراتفری شکست نہ کہلائی۔اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ اس جنگ میں مسلمان بارہ ہزار تھے،کفار کی تعداد اس سے کم تھی ان کے دل میں خیال ہوا کہ آج ہم بہت تعداد میں ہیں ضرور غالب آئیں گے۔رب کو یہ پسند نہ آیا کہ مسلمانوں خصوصًا صحابہ کرام کی نظر رب کے کرم سے ہٹے، اپنی کثرت پر ٹھہرے اس لیے یہ ہیجان پیدا ہوگیا،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ"یہاں اس کا بیان ہے۔ ۳؎ اس طرح کہ اس مشرک نے مسلمان کو دبوچ لیا تھا اور قتل کرنے کے لیے تلوار نکال لی تھی کہ پیچھے سے میں نے اس مشرک پر حملہ کردیا ۴؎ حبل عاتقہ وہ رگ ہے جو گردن سے کندھے تک ہے یہ شہ رگ نہیں ہے۔ ۵؎ یعنی میں نے اس مشرک پر ایسا سخت وار کیا کہ اس کی زرہ کاٹ کر گردن بھی سخت زخمی کردی وہ اس سے گھبرا گیا اس دبوچے ہوئے مسلمان کو چھوڑ کر مجھ سے لپٹ گیا مگر اس پر نزع کے آثار نمودار تھے اور وہ قریب موت تھا چنانچہ وہ کافر اسی حال میں مر گیا۔ ۶؎ یعنی مسلمانوں کی یہ افراتفری رب تعالٰی کے ارادے سے ہے جو وہ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے یا گھبراؤ مت ان شاءاﷲ ہمیں اﷲ کی نصرت حاصل ہوگی اور مسلمانوں کے اکھڑے ہوئے قدم جم جائیں گے اور مسلمانوں کی فتح ہوگی۔اﷲ تعالٰی نے حضرت عمر کی یہ پیش گوئی سچی فرمادی۔(مرقات و اشعہ) ۷؎ اس طرح کہ ابوسفیان آج حضور انور کی سواری کی مہار تھامے تھے اور حضرت عباس سواری کے پیچھے تھے حضرت عباس نے گرج کر پکارا کہ اﷲ کے بندو رسول اﷲ یہاں ہیں ان کے پاس آؤ یہ آواز تمام غازیوں کے کان میں پہنچی سب لوگ حضور کے پاس جمع ہوگئے اور پھر جم کر حملہ کیا،اﷲ تعالٰی کے فضل سے جنگ جیت لی اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وہ شجاعت ظاہر ہوئی کہ سبحان اﷲ! حضور انور کے ساتھی چند غازی تھے تمام کفار نے مل کر حضور کی سواری کو گھیر لیا اور چوطرفہ سے حضور پر حملہ کردیا حضور انور یہ کہتے ہوئے سواری سے اترے انا النبی لاکذب انا ابن عبدالمطلب میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں عبدالمطلب کا پوتا ہوں،تلوار سونتی سواری سے اترنا تھا کہ کفار کائی کی طرح پھٹ گئے کوئی حضور پر حملہ نہ کرسکا ۔ ۸؎ سلبہ سے مراد مقتول کا سامان ہے جیسے جوڑا،گھوڑا،ہتھیار وغیرہ۔اس غزوہ حنین میں حضرت ابوطلحہ نے بیس کفار قتل کیے اور ان سب کا سامان پالیا۔خیال رہے کہ حضرت امام شافعی و احمد کے ہاں یہ شرعی قانون ہے کہ جو غازی کسی کافر کو مارے تو اس کا سامان اسے ملے گا بشرطیکہ وہ غنیمت کا حصہ لینے کا حق دار ہو۔امام اعظم کے ہاں یہ قانون نہیں بلکہ بطور نفل ملے گا،اگر حاکم چاہے تو دے کیونکہ ایک حدیث میں یوں ہے کہ حضور نے غازی قاتل سے فرمایا لیس لك حتی سلب قتیلك الاطابت بہ نفس امامك تم کو مقتول کا وہ ہی مال ملے گا جو امام چاہے،نیز ابوجہل کو دو صاحبوں معاذ ابن عمرو اور معاذ ابن عفرء نے قتل کیا مگر حضور نے اس مردود کا سامان ایک صاحب معاذ ابن عمر ابن جموح کو دیا لہذا حق یہ ہی کہ حضور عالی کا یہ فرمان قانون جہاد نہیں بلکہ اپنے اختیار کا اعلان ہے۔ ۹؎ یہ باربار کھڑا ہونا تلاش گواہ کے لیے تھا۔خیال رہے کہ امام شافعی کے ہاں قاتل غازی کو مقتول کا سامان شرعی گواہی ملنے پر دیا جائے گا،امام مالک کے ہاں اس بارے میں صرف غازی کا قول معتبر ہوگا گواہی ضروری نہیں،وہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ شرعی گواہی ہوتی تو دو گواہ چاہیے تھے ایک کافی نہ ہوتا کیونکہ یہ مال سارے غازیوں کا حق تھا صرف ایک گواہ سے کیسے دیا جاسکتا تھا لہذا امام مالک کے ہاں یہاں بیّنہ سے مراد گواہ نہیں بلکہ مطلقًا ثبوت ہے خواہ کسی غازی کی تصدیق ہو یا اور کوئی علامت۔(دیکھو مرقات) ۱۰؎ یعنی واقعی اس کافر کا قاتل یہ ہی ہے اس مقتول کا سامان میں نے لے لیا ہے حضور ان سے فرمادیں کہ وہ سامان مجھے دے دیں یا مجھے اس میں شریک کر لیں ان کی مہربانی ہوگی۔ ۱۱؎ سبحان اﷲ! حضرت صدیق اکبر و اطہر نے کیا اچھا جواب دیا یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ بہادری کے جوہر تو ابوقتادہ دکھائیں اور ان کا حق تم کو دے دیا جائے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں بہادری دکھانے والوں کو خصوصی انعام و اکرام یا تمغہ وغیرہ دینا جائز ہے۔اس سے غازیوں کی ہمت بڑھتی ہے دوسروں کوبہادری دکھانے کا شوق ہوتا ہے۔اس انعام سے ثواب اخروی مطلقًا کم نہیں ہوتا اب بھی حکومتیں اس پرعمل کرتی ہیں،ابھی ہماری پاکستانی فوج کے چھوٹے سے دستے نے رن کچھ میں بڑی بھارتی فوج کو شکست فاش دی بہت مال غنیمت حاصل کیا حکومت پاکستان نے ان بہادروں کی بہت حوصلہ افزائی کی یہ عمل اس حدیث سے ثابت ہے۔ ۱۲؎ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مال بہت تھا اور قیمتی تھا جس سے پورا باغ خرید لیا گیا۔خیال رہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہ مقتول کا سامان غازی قاتل کو دینا بطور نفل ہے،اگر سلطان چاہے تو دے اور امام شافعی کے ہاں قانون شرعی ہے سلطان راضی ہو یا نہ ہو بہرحال سامان قاتل ہی کو ملے گا۔امام اعظم رضی اللہ عنہ کی دلیلیں تھیں احادیث میں جو یہاں مرقات نے نقل فرمائیں:ایک وہ جو طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط بروایت حبیب ابن سلمہ فہرست نقل کی کہ حضرت حبیب نے صاحب قبرص کو قتل کیا جس کے پاس زمرد یاقوت موتی وغیرہ بہت سامان تھا وہ اس کا یہ سامان اور پانچ خچر ریشمی کپڑا حضرت ابوعبیدہ ابن جراح کی خدمت میں لائے، جناب ابوعبیدہ نے اس میں خمس لینا چاہا انہوں نے یہ ہی حدیث پیش کی من قتل قتیلا فلہٗ سلبہٗ تو حضرت ابوعبیدہ نے فرمایا انما للمراء ما طابت بہ نفس امامہ۔دوسری وہ حدیث جو مسلم،بخاری نے نقل فرمائی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوجہل کے دو قاتلوں سے فرمایا کہ تم دونوں نے اسے قتل کیا مگر ابوجہل کا سامان صرف معاذ ابن عمرو کو عطا فرمایا۔تیسرے غزوہ موتہ کا وہ واقعہ جو مسلم وابوداؤد نے بروایت عوف ابن مالک اشجعی روایت کیا کہ ایک شخص نے کسی رومی کافر کو قتل کیا جس کے پاس اعلیٰ گھوڑے سونے کی زین زیوروں سے آراستہ ہتھیار تھے اس شخص نے یہ سب خود لینا چاہا حضرت خالد ابن ولید نے انکار کیا،یہ مقدمہ بارگاہِ نبوت میں پیش ہوا اولًا تو حضور نے فرمایا خالد اسے یہ سب کچھ دے دو،پھر فرمایا اسے کچھ نہ دو ہم اپنے سرداروں کی ذلت نہیں چاہتے لہذا یہ سلب نفل ہے اگر امام چاہے دے یا نہ دے۔