Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
878 - 1040
باب قسمۃ الغنائم و الغلول

باب غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ قسمت کے معنی بخشش کرنا بھی ہیں اور اندازہ لگانا بھی اور حصہ کرنا بھی۔غنیمت وہ مال ہے جو بحالت جنگ کفار سے چھینا جاوے۔اور فئ ہر وہ مال ہے جو کفار سے حاصل کیاجائے خواہ جبرًا خواہ صلحًا بشرطیکہ حلال طریقہ سے حاصل کیا جائے لہذا غنیمت خاص فئ عام۔چنانچہ غنیمت،جزیہ،خراج ،مال صلح جو کفار سے صلح کرکے حاصل کیا جائے ان سب کو فئ کہا جاتا ہے۔(مرقات) غلول غنیمت کے مال میں خیانت کرنے کو کہتے ہیں۔(اشعہ)
حدیث نمبر878
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہم سے پہلے کسی کے لیے غنیمتیں حلال نہ ہوئیں ۱؎ یہ اس لیے ہے کہ اﷲ نے ہماری کمزوری ہماری عاجزی دیکھی تو اس نے ہمارے لیے یہ حلال فرمادیں۲؎
شرح
۱؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ہے لم تحل بغیر ف کے اس صورت میں یہ کلام مستقل ہے اور اگر فلم تحل ف سے ہو تو یہ کلام کسی گذشتہ کلام پر مرتب ہے،یہ پورا کلام شریف اسی باب کی تیسری فصل میں آئے گا۔یعنی غنیمت کا مال ہم سے پہلے کسی نبی کی امت کے لیے حلال نہ کیا۔وہ لوگ جب جہا دمیں کفار سے مال چھینتے تھے تو یہ سارا مال جمع کرکے کسی جگہ رکھتے تھے،آسمان سے غیبی آگ بغیر دھوئیں والی آتی تھی اسے جلا جاتی تھی،یہ آگ کا جلا ڈالنا اس کی علامت ہوتی تھی کہ یہ جہاد مقبول ہے اور غنیمت میں خیانت نہیں ہوئی،اگر آگ نہ جلاتی تو وہ لوگ سمجھ جاتے کہ یا تو جہاد مردود ہوگیا یا اس غنیمت میں کچھ خیانت ہوئی ہے یہ ہی حال ان کی قربانیوں کا تھا،ہمارے لیے غنیمت اور قربانی دونوں چیزیں حلال فرمادی گئیں۔(از مرقات ولمعات مع اضافہ)

۲؎ یعنی ان گذشتہ قوموں کے لحاظ سے ہم لوگ جسمًا کمزور بھی ہیں اور مال میں کم بھی اور تاقیامت بہت کمزور و غریب لوگ جہاد کیا کریں گے۔ان وجوہ سے ہمارے لیے غنیمت حلال کردی کہ جہاد میں ثواب بھی حاصل کریں اور مال بھی یہ رعایت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے صدقہ میں ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہاد گزشتہ دینوں میں بھی تھے۔ہم نے اپنی تفسیر نعیمی میں ثابت کیا ہے کہ جہاد حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام کے زمانہ سے شروع ہوا۔
Flag Counter