۱؎ آپ اشجعی مدنی ہیں،غزوہ خندق میں ایمان لائے،اسلام سے پہلے احزاب کے واقعہ میں ان کی کوشش رہی کہ بنی قریظہ اور ابوسفیان کے درمیان یہ ہی واسطہ اور پیغام رساں تھے،ابوسفیان اس جنگ احزاب میں کفار کے سردار تھے،خلافت عثمان میں فوت ہوئے یا خلافت حیدری میں جنگ جمل میں قتل ہوئے۔
۲؎ ان دونوں مردوں کے نام عبداﷲ ابن نواحہ اور دوسرا ابن اثال ہیں یہ دونوں مسیلمہ کذاب پر ایمان لاچکے تھے جیسے ہمارے ہاں قادیانی جو مرزا غلام احمد مردود پر ایمان لاچکے ہیں۔مسیلمہ کذاب نے حضور کے زمانہ میں ہی دعویٰ نبوت کردیا،خلافت صدیقی میں تلوار صدیقی سے جہنم میں پہنچا۔حضرت وحشی نے اسے نہایت ذلت سے ہلاک کیا،اس سے جنگ یمامہ کا معرکہ ہوا یعنی تم میرے سامنے مسیلمہ کذاب کی نبوت کا اقرار کررہے تو مستحق قتل ہو مگر چونکہ قاصدوں کو قتل کرنا درست نہیں اس لیے تم کو چھوڑتا ہوں اور واپس جانے دیتا ہوں۔قاصدوں،ایلچیوں،نمائندوں اور سفیروں کو قتل نہ کرنے میں بڑی مصلحتیں ہیں،اب بھی اس قانون پر عمل ہے۔