| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت سلیم ابن عامر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ اور روم کے درمیان معاہدہ تھا ۲؎ اور جناب معاویہ ان کے شہروں کی طرف چل دیئے تاکہ جب معاہدہ پورا ہو جائے تو فورًا ان پر حملہ کردیں۳؎ تو ایک شخص ترکی یا عربی گھوڑے پر سوار یہ کہتا ہوا آیا۴؎ اﷲ اکبر اﷲ اکبر وفا عہد ہو بدعہدی نہ ہو ۵؎ لوگوں نے غور کیا تو وہ حضرت عمرو ابن عبسہ تھے ۶؎ تو اس کے متعلق ان سے حضرت معاویہ نے پوچھا ۷؎ تو فرمایا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جس کا کسی قوم سے عہد ہو تو وہ نہ تو عہد کھولے نہ اسے بدلے ۸؎ حتی کہ اس کی مدت گزر جائے ۹؎ یا انہیں برابری پر خبر دے دے ۱۰؎ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ لوگوں کو واپس لے گئے ۱۱؎(ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ تابعی ہیں،شام میں قیام رکھتے تھے،اپنے وقت کے عالم وفقیہ تھے،ابو حاتم کہتے ہیں کہ یہ راوی ثقہ ہیں۔ ۲؎ یعنی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے زمانہ سلطنت میں کفار روم سے کچھ روز کے لیے عارضی صلح فرمائی تھی کہ فلاں تاریخ تک ہم تم سے جنگ نہ کریں گے۔ ۳؎ یعنی جب مدت صلح ختم ہونے کے قریب ہوئی تو آپ مع لشکر جرار شام سے روم کی طرف روانہ ہوگئے اس ارادہ سے کہ مدت صلح ختم ہونے سے پہلے رومیوں کی سرحد پر پہنچ جائیں اور معاہدہ کی مدت ختم ہوتے ہی ان پر حملہ کردیں۔ ۴؎ فرس اور برذون دونوں کے معنی ہیں گھوڑا مگر یہاں فرس سے مراد ہے عربی گھوڑا اور برذون سے مراد ہے ترکی گھوڑا۔راوی کو شک ہے کہ وہ کس گھوڑے پر سوار تھے۔ ۵؎ یعنی اے جماعت صحابہ یا اے امت مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم یا اے امیر المؤمنین معاویہ تم لوگوں کی شان وفا عہد ہے بے وفائی تمہاری شان کے خلاف ہے،آپ نے ختم مدت سے پہلے ان کفار کی طرف کوچ کرنا ان کی سرحد پر پہنچ جانا بھی خلاف عہد سمجھا۔ یہ اس صورت میں ہے کہ کفار مسلمانوں پر حملہ کی تیاری نہ کررہے ہوں اگر وہ ایسا کررہے ہیں تو مدت صلح میں ان کی سرحد پر پہنچ جانا اور بعد ختم مدت اچانک ان پر حملہ کردینا انہیں حملہ کا موقع نہ دینا ضروری ہے کہ اب بدعہدی ان کی طرف سے ہے نہ کہ ہماری طرف سے اس وقت رومیوں نے یہ حرکت نہ کی تھی۔(مرقات) ۶؎ آپ مشہور صحابی ہیں،چوتھے مسلمان ہیں،شام کے رہنے والے ہیں،آپ کے حالات بار ہا بیان ہوچکے ہیں،آپ نے صلح کے زمانہ میں ان رومی عیسائیوں کی سرحد پر پہنچ جانے کو بھی بدعہدی میں شمار فرمایا اس لیے یہ فرمایا۔ ۷؎ یعنی امیر معاویہ نے اس فتویٰ کی دلیل حدیث سے معلوم کرنا چاہی۔ ۸؎ بعض روایات میں الفاظ یوں ہیں فیشدہ ولا یحلہ یعنی اس عہد کو پختہ تو کردے مگر کھولے یعنی توڑے نہیں یہ عبارت واضح ہے۔شد کے معنی مضبوطی کے ہیں،یہاں اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو عہد کو مدت کے اندر کھولے توڑے نہ کفار سے تجدید عہد یا توثیق عہد کا مطالبہ کرے یعنی یہ نہ کہے کہ اس عہد کو مضبوط کرو کہ اس سے کفار سمجھیں گے کہ مسلمانوں نے وہ عہد کمزر کردیا اس لیے اب اس کی پختگی کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس میں بھی خیانت کی بو ہے ہم نے لا یشدنہ کے معنی جو کیے نہ بدلے یہ لازمی معنی ہیں ورنہ معنی یہ ہیں کہ نہ مضبوطی عہد کا مطالبہ کرے۔ ۹؎ غرضیکہ مدت صلح گزرنے تک کفار سے کچھ تعرض نہ کرے آپ کا وہاں جانا اس کے خلاف ہے۔سبحان اﷲ! اس تقویٰ کے قربان۔ ۱۰؎ یعنی اگر صلح توڑنے کی ضرورت ہی پیش آجائے تو حملہ سے سے بہت پہلے انہیں اطلاع بھیج دے کہ ہم مجبورًا اس معاہدے کو توڑ رہے ہیں تم تیار ہوجاؤ،یہ ہی مطلب ہے علیٰ سواء کا،قرآن کریم فرماتاہے:"وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنۡ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانۡۢبِذْ اِلَیۡہِمْ عَلٰی سَوَآءٍ"یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے۔ ۱۱؎ یعنی امیر معاویہ حضور کا یہ فرمان عالی سنتے ہی مع لشکر کے واپس لوٹ گئے۔معلوم ہوا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ سلطنت میں ۵۱ اکیاون ہجری میں فتح ہوا،اس فتح میں یزید ابن معاویہ سپہ سالار تھا۔(اکمال) اور اس لشکر جرار میں حضرت عبداﷲ ابن عمر عبداﷲ ابن عباس ابو ایوب انصاری عبداﷲ ابن زبیر حسین ابن علی جیسے حضرات سپاہیانہ شان سے شامل تھے۔(البدایہ و النہایہ) یزید ابن معاویہ نے حضرت ابو ایوب انصاری کی نماز جنازہ پڑھائی،اس نے قسطنطنیہ کی فصیل کے نیچے آپ کو دفن کیا اور اعلان کیا کہ اگر کسی عیسائی نے اس قبر شریف کو کوئی نقصان پہنچایا تو میں سارے عرب کے عیسائیوں کے قتل اور عرب کے گرجا منہدم کردوں گا،اﷲ کی شان ہے جس سے چاہے دین کی خدمت لے۔