۱؎ آپ قبیلہ بنی خزاعہ سے ہیں،صحابی ہیں،حجۃ الوداع میں حضور کے ہاتھ پر ایمان لائے،حضور کی وفات کے بعد پہلے کوفہ میں پھر مصر میں مقیم رہے، ۵۱ھ اکیاون میں موصل میں عجیب و غریب طریقہ سے قتل کیے گئے،ان کے قتل کا عجیب قصہ امام سیوطی نے جمع الجوامع میں اور شیخ عبدالحق نے رسالہ تعمیم البشارہ کے حاشیہ میں لکھا ہے وہاں مطالعہ کرنا چاہیے۔
۲؎ اسے رسوا کرنے کے لیے اور یہ جھنڈا بدعہدی وغداری کی نشانی ہوگا جس سے محشر والے اس کی غداری معلوم کرلیں گے۔ خیال رہے کہ قیامت میں مسلمانوں کے خفیہ عیوب ظاہر نہ کیے جائیں گے علانیہ عیوب کا اعلان ہوگا لہذا یہ حدیث پردہ پوشی کی احادیث کے خلاف نہیں۔