۱؎ امان و امن ضد ہے خوف کی بھی اور جنگ کی بھی،یہاں کفار کو امان دینا مراد ہے،اس امان کی بہت صورتیں ہیں:مستامن کو امان دینا کہ جو کافر دارالحرب سے ہمارے ملک میں چند روز کے لیے ہماری اجازت سے آئے اسے مستامن کہتے ہیں،بحالت جنگ کسی کافر کو امان دینا،کسی مصلحت سے ذمی کافر کو دائمی امان دینا،جس کافر قوم سے ہماری صلح و معاہدہ ہوگیا ہے اسے زمانہ صلح میں امان دینا،کافروں کا قاصد یا ایلچی کا ہمارے ہاں پیغام رسانی کے لیے آنا اسے امان دینا جیسا کہ ابھی احادیث میں آرہا ہے۔
حدیث نمبر870
روایت ہے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں فتح کے سال گئی ۲؎ تو میں نے آپ کو غسل کرتے پایا اور آپ کی بیٹی فاطمہ آپ پر کپڑے سے آڑ کیے تھیں۳؎ تو میں نے سلام کیا ۴؎ فرمایا یہ کون ہیں میں نے کہا ام ہانی بنت ابو طالب،فرمایا ام ہانی خوب آئیں ۵؎ پھر جب اپنے غسل سے فارغ ہوگئے تو کھڑے ہوئے ایک کپڑے میں لپیٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں ۶؎ پھر فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ میرے ماں جائے علی کہتے ہیں ۷؎ کہ وہ اس شخص کو قتل کریں گے جسے میں امان دے چکی ہوں ھبیرہ کا بیٹا فلاں ۸؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ام ہانی جسے تم نے امان دے دی اسے ہم نے بھی امان دے دی ۹؎ ام ہانی فرماتی ہیں کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔(مسلم،بخاری) اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ فرماتی ہیں میں نے اپنے دیوروں میں سے دوشخصوں کو امان دے دی تھی۱۰؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم نے اسے امان دے دی جسے تم نے امان دے دی۔
شرح
۱؎ آپ کا نام فاختہ یا عائلہ ہے،ابو طالب کی بیٹی جناب علی مرتضٰی کی بہن حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی چچا زاد ہیں، انہی کے گھر سے حضور کو معراج ہوئی،فتح مکہ کے دن ایمان لائیں،امیر معاویہ کے زمانہ میں ۵۱ھ اکیاون میں وفات پائی،آپ سے حضرت علی و عباس اور بہت تابعین نے روایت کی۔(اشعہ) ۲؎ یعنی خاص فتح مکہ کے دن جب حضور انور سب کو امان دے کر فارغ ہو چکے تھے غسل فرمارہے تھے۔ ۳؎ اس طرح کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تہبند شریف باندھ کر غسل فرمارہے تھے،چونکہ غسل خانہ میں نہ تھے اس لیے جناب فاطمہ کپڑا تانے سامنے کھڑیں تھیں،یہ کپڑا غسل خانہ کی دیوار کی طرح آڑ کا کام دے رہا تھا،غسل خانہ میں بھی تہبند باندھ کر غسل کرنا چاہیے۔ ۴؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو یا فاطمہ زہرا کو کیونکہ جو تہبند باندھے غسل کررہا ہو اسے سلام کرنا جائز ہے،ہاں ننگے بدن نہانے والے کو سلام نہ کرے کہ ننگا آدمی جواب سلام نہیں دے سکتا اس لیے پیشاب پاخانہ استنجاء کرنے والے کو سلام کرنا منع ہے وہ ننگا ہے۔ ۵؎ معلوم ہوا کہ غسل کی حالت میں کلام کرسکتے ہیں،وضو کرتے ہوئے دنیاوی کلام،سلام جواب سلام سب ممنوع ہیں صرف دعائیں پڑھے۔ ہرغسل کا یہ ہی حکم ہے جنابت کا غسل ہو یا کوئی اور،یہ بھی معلوم ہوا کہ آنے والے پیارے کی آمد پر اظہار خوشی کے کلمات کہنا سنت ہے۔ ۶؎ نماز چاشت جیسا کہ ترمذی نے شمائل شریف میں فرمایا۔ ایک کپڑے میں نماز کے احکام کتاب الصلوۃ باب الستر میں گزر گئے۔ ۷؎ حضرت علی جناب ام ہانی کے سگے بھائی ہیں مگر صرف ماں کا ذکر فرمایا اظہار محبت کے لیے جیسا ہارون علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا ابن ام۔ ۸؎ ہبیرہ ابن وھب ابن عمرو ابن عائذ ابن عمران ابن مخزوم جناب ام ہانی کے خاوند ہیں۔اس فلاں کا نام معلوم نہ ہوسکا یعنی میں نے اپنے خاوند کے بیٹے کو جو میرے پیٹ سے ہیں یا ان کی دوسری بیوی کے پیٹ سے ہیں امان دے دی مگر علی اس کی تلاش میں ہیں قتل کرنے کے لیے۔خیال رہے کہ جناب ام ہانی کے اسلام لانے پر ہبیرہ سے آپ کی جدائی ہوگئی۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اس فلاں کا نام حارث ابن ہشام ابن مغیرہ ابن عبدالملک ابن عبداﷲ ابن عمرو ابن مخزوم ہے۔مگر پہلی روایت قوی ہے کہ وہ شخص ہبیرہ کا بیٹا ہے ام ہانی کا سگا یا سوتیلا بیٹا۔(دیکھو مرقات اور اشعۃ اللمعات)حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ غسل یا تو خود ام ہانی کے گھر تھا یا حضرت علی کے گھر یا کسی اور جگہ،بعض روایات میں ہے کہ فرماتی ہیں حضور نے میرے گھر میں غسل فرمایا۔ ۹؎ یعنی تمہاری امان ہماری مان ہے۔حضرت علی اسے قتل نہیں کریں گے۔ ۱۰؎ یہ دونوں شخص جو حضرت ام ہانی کے دیور ہیں ایک تو عبداﷲ ابن ابی ربیعہ ابن مغیرہ ہیں دوسرے حارث ابن ہشام ابن مغیرہ ہیں دونوں مخزومی ہیں۔ان دونوں روایتوں میں کوئی مخالف نہیں۔ جناب ام ہانی نے ان دونوں کو بھی امان دی تھی اور ہبیرہ کے بیٹے کو بھی حضور انور نے سب کی امان برقرار رکھی۔